گناہ و ناجائز

مدرسے میں طلباء سے چھٹیوں کی فیس وصول کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
37768
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مدرسے میں طلباء سے چھٹیوں کی فیس وصول کرنے کا حکم

بنات کی مدرسے کی جو چھٹیاں ہوتی ہیں، ان مہینے میں مدرسے والے ان سے فیس وصول کرتے ہیں ؟ کیا وہ فیس لینا جائز ہے یا نہیں ؟حالانکہ ان پر کوئی کرایہ نہیں, کوئی اخراجات نہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ابتداءً داخلہ کے وقت مدرسہ کی انتظامیہ نے بچوں کے والدین کے ساتھ چھٹیوں کی فیس بھی لینے کا اگر معاہدہ کیا ہو ، تو اس معاہدہ کے مطابق وہ چھٹیوں کی فیس لینے کے مجاز ہیں ، ورنہ نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر: 14 - ومنها البطالة في المدارس، كأيام الأعياد ويوم عاشوراء، وشهر رمضان في درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم. والمسألة على وجهين فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء، وإلا فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي اھ (1/ 300)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمداکرام ہارون عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 37768کی تصدیق کریں
0     858
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات