حضرت میرا سوال ہے کے میرا نکاح ایک سال پہلے ہواتھا اور رخصتی نہیں ہوئی لیکن میں اگرطلاق دو ں تو میری بیوی کا کیاحکم ہے کہ کب تک وہ گھر سے باہرنہیں نکل سکتی رہنمائی فرمائیں۔
سائل اور اسکی بیوی نکاح کے بعد اگر ایسی تنہائی میں نہ ملے ہوں جس میں وہ مباشرت کر سکتے ہوں تو طلاق کی صورت میں سائل کی بیوی پر عدت لازم نہیں البتہ اگر وہ تنہائی میں مل چکے ہوں تو تین ماہواریاں گزرنے تک سائل کی بیوی عدت میں بیٹھے گی ، اور عدت گزرنے سے پہلے دوسری جگہ شادی و نکاح کرنا بھی درست نہ ہو گا۔
كما في الدر :(وسبب وجوبها) عقد النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه من موت أو خلوة أي صحيحة، فلا عدة بخلوة الرتقاء وشرطها الفرقة وركنها حرمات ثابتة بها كحرمة تزوج وخروج (وصحة الطلاق فيها) أي في العدة اھ (٥٠٤/٣)
و في الشامية: تحت (قوله وركنها حرمات)أي لزومات كما مر عن الفتح لا نفس التحريم أي أشياء لازمة للمرأة يحرم عليها تعديها (إلى قوله) (قوله كحرمة تزوج) أي تزوجها غيره فإنها حرمة عليها . اھ(ايضاً)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0