گناہ و ناجائز

کندھے پر ٹیٹو بنانے کے بعد غسل اور پاکی وناپاکی کے احکام

فتوی نمبر :
38140
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کندھے پر ٹیٹو بنانے کے بعد غسل اور پاکی وناپاکی کے احکام

میرے چھوٹے بھائی نے اپنے کندھے پر ٹیٹو بنایا ہواہے، اس کی وجہ سے وہ پاک ہوجائے گا؟ اور اس کی شادی بھی ہونے والی ہے، تو کیا ایسے میں اس کا نکاح ہوجائے گا؟ اور بیوی حلال ہوجائے گی؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور ٹیٹوز اگر اس طرح بنائے گے ہوں کہ کٹ لگانے کے بعد جو خون نکلے اس میں کلر یا مہندی وغیرہ اس طور پر ڈال دیا جاتا ہو کہ جم جانے کے بعد ان کا زائل کرنا سخت دشوار ہو، تو ان کے اوپر پانی بہادینا بھی وضو اور غسل میں پاکی حاصل کرنے کیلئے کافی ہے، اور ان کی وجہ سے نکاح میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا، تاہم ٹیٹوز بنانا کفار وفساق سے مشابہت کی وجہ سے گناہ کا کام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الشامیة: مطلب فی حکم الوشم (تنبیه مهم) یستفاد مما مر حکم الوشم فی نحو الید، وهو أنه کالاختضاب أو الصبغ بالمتنجس؛ لأنه إذا غرزت الید أو الشفة مثلا بابرة ثم حشی محلها بکحل أو نیلة لیخضر تنجس الکحل بالدم، فإذا جمد الدم والتأم الجرح بقی محله أخضر، فإذا غسل طهر؛ لأنه اثر یشق زواله؛ لأنه لا یزول إلا بسلخ الجلد أو جرحه، فإذا کان لا یکلف بإزالة الأثر الذی یزول بماء حار أو صابون فعدم التکلیف هنا أولٰی، وقد صرح به فی القنیة فقال: ولو اتخذ فی یده وشما لا یلزمه السلخ. اھ (۶/ ۳۷۳) واللہ تعالٰی اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سيد محمد بلال سلیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38140کی تصدیق کریں
0     238
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات