گناہ و ناجائز

کیا غلبہ شہوت کی وجہ سے مشت زنی کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
38231
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کیا غلبہ شہوت کی وجہ سے مشت زنی کرنا جائز ہے؟

السلام علیکم! جناب میرا سوال یہ ہے کہ میں نے ایک عالم دین کا بیان سنا ہے ۔جس میں وہ فرما رہے تھے کہ غلبہ شہوت کی وجہ سے یا جسم کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے مشت زنی کرنا جائز ہے اور وہ فرما رہے تھے کہ اس کی نفی میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہوئی۔ جبکہ حدیث میں آتا ہے ’’ناکح اليد ملعون‘‘ ۔مسئلہ مذ کورہ کی وضاحت فرما دیں دلائل کے ساتھ۔ جزاکم اللہ خیرا!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو شاید مسئلہ سمجھنے میں یا مذکور مولوی صاحب موصوف سے مسئلہ کی وضاحت میں کمی رہ گئی ہو ۔ معمولی غلبہ شہوت یا جسم کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے مشت زنی کرنا جائز نہیں، بلکہ ایک ناجائز عمل ہے، جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں ، اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے ۔ البتہ غلبہ شہوت سے بچنے کے لیے کثرت سے روزوں کا اہتمام اور گرم خوراک و غیرہ سے پر ہیز کا اہتمام کرنا چاہیئے، تاہم پھر بھی اگر شہوت کا اتنا زیادہ غلبہ ہو کہ کسی حرام میں پڑنے کا غالب گمان یا یقین ہو جائے ،تو ایسی صورت میں مشت زنی کی گنجائش ہے، لیکن پھر بھی اپنے اس فعل پر تو بہ واستغفار کرنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (أو جامع فيما دون الفرج ولم ينزل) يعني في غير السبيلين كسرة وفخذ وكذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث «ناكح اليد ملعون» ولو خاف الزنى يرجى أن لا وبال عليه اھ (2/ 399)
و في حاشية ابن عابدين: مطلب في حكم الاستمناء بالكف (قوله: وكذا الاستمناء بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء كما سيصرح به وهو المختار كما يأتي لكن المتبادر من كلامه الإنزال بقرينة ما بعده فيكون على خلاف المختار (قوله: ولو خاف الزنى إلخ) الظاهر أنه غير قيد بل لو تعين الخلاص من الزنى به وجب؛ لأنه أخف وعبارة الفتح فإن غلبته الشهوة ففعل إرادة تسكينها به فالرجاء أن لا يعاقب اهـ (2/ 399)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38231کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات