السلام و علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
آج کل موبائل کمپنیاں اکاونٹ کی سہولت دے رہی ہے جیسے ایزی پیسہ، جاز کیش، یو پیسہ ، وغيرہ ساتھ ہی کافی قسم کی سہولیات بھی دیتے ہیں، جیسے پیسے رکھنے پر منٹ، نیٹ ، اسی طرح ایزی پیسہ نے سہولت دی ہے کہ آپ پچاس کا لوڈ کرو تو آپ کو دس یا بیس روپے واپس کر دیتے ہیں کیا یہ ٹھیک ہے یا نہیں ؟ راہ نمائی کریں شکریہ!
صورت مسئولہ میں ٹرانزیکشن یعنی ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے ایزی لوڈ کرنے کی صورت میں کسٹمر کو جو انعامی پندرہ یا بیس روپے دیئے جاتے ہیں ، اگر وہ کسٹمر کے اکاؤنٹ میں کسی متعین مقدار رقم رکھنے کی شرط کے ساتھ مشروط نہ ہو ، بلکہ محض انعام کے طور پر ملتے ہوں، تو اس صورت میں مذکور رقم کا لینا اور اس کا استعمال کرنا جائز اور درست ہے، وگرنہ اس میں رکھے ہوئے پیسوں کی حیثیت شرعا قرض کی ہے اور قرض پر کسی قسم کا معروف یا مشروط نفع حاصل کر ناشرعا سودکے زمرہ میں آتا ہے، جس کے استعمال سے احتر از لازم ہے۔
كما في فقه البيوع : الثالث ما جرى به عمل بعض التجار انهم يعطون جوائز العملاءهم الذين اشتروا منهم كمية مخصوصة ولو فى صفقات مختلفة. وقد تعطى هذه الجوائز بقدر الكمية لكل احد وقد تعطى الجوائز بالقرعة (الى قوله) فهي هبة مبتداة موعودة من البائع لتشجيع الناس على ان يشتروا البضائع منه وجواز اخذها مشروط بأن لا يكون البائع زاد في ثمن البضاعة من أجل هذه الجوائز والاصار نوعاً من القمار لان ما زاد على ثمن المثل انما طولب به على سبيل الغرر اھ (۲/۸۱۱)
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166)
و في الفتاوى الهندية: أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض كذا في الكنز وأما ركنها فقول الواهب وهبت لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له اھ (4/ 374) واللہ اعلم بالصواب