گناہ و ناجائز

عمر کم لکھوانے کی بناء پر حاصل ہونے والی ملازمت کا حکم

فتوی نمبر :
38490
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عمر کم لکھوانے کی بناء پر حاصل ہونے والی ملازمت کا حکم

مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں اس مسئلے کے بارے میں کہ آج کل معاشرے میں رائج ہے کہ بچپن کے زمانے میں داخلہ کرتے وقت سرپرست بچے کی لاعلمی میں عمر کم لکھتے ہیں کہ مستقبل میں سرکاری نوکری ملنے میں Over Age ہونے کا مسئلہ نہ ہو۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسی حالت میں نوکری کرنا شرعاً کیسا ہے؟ نیز اُس کے اس سابقہ غلطی کی تلافی کے لئے یہ کافی ہو جائے گا کہ مثلا 3 سال عمر کم لکھاتھا اور انتہائے وقت سے 3 سال قبل ریٹائر ڈ منٹ لے لیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عمر کم لکھوانا اگر چہ شرعاً جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے،جس سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر کسی کی عمر کم لکھی گئی ہو، جس کی بنا پر اسےکسی جائز ملازمت کے لئے منتخب کیا گیا ہواور اس میں ملازمت کرنے کی اہلیت بھی ہو، تو ایسی صورت میں مذکور ملازمت سے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے، اور عمر کم لکھوانے کی وجہ سے وقت سے قبل ریٹائرمنٹ لینا بھی کوئی لازم نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38490کی تصدیق کریں
0     178
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات