کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: 1/10/2019 کو میرے والد صاحب کا انتقال ہو ا، اب میری والد ہ عدت میں ہیں، اور دو مہینے بعد میری بھتیجی کی شادی ہے، جو والد صاحب نے اپنی زندگی میں طے کی تھی، معلوم یہ کرنا ہے، کہ کیا میری والدہ کی لیے اپنی پوتی کی شادی میں شرکت کرنے کی گنجائش ہے ؟ شادی کی وقت تک ان کی عدت مکمل نہ ہو سکے گی، شادی میں پردے کا انتظام بھی ہے ؟۔
سائل کی بھتیجی کی شادی اگر اس گھر سے باہر کسی اور جگہ ہو رہی ہو، جہاں سائل کی والدہ عدت گزار رہی ہیں، تو ان کے لیے اس گھر سے نکل کر شادی میں شرکت کرنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ شادی میں شرکت کو ضروری سمجھا جاتا ہو، تو ایسی صورت میں شادی عدت گزرنے تک مؤخر کر دی جائے، تو دونوں مقصد حاصل ہو جائیں گے۔
کما في الهندية: على المعتدة أن تعتد في المنزل الذي يضاف إليها بالسكنى حال وقوع الفرقة والموت كذا في الكافي( إلى قوله )إن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على مالها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل وإن كان المنزل لزوجها وقد مات فلها أن تسكن في نصیبھا إن كان ما يصيبها من ذلك ما يكتفى به في السكنى وتستتر عن سائر الورثة ممن ليس بمحرم لها كذا في البدائع اھ (535/1)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0