محترم جناب مفتی صاحب!
ہم چار بھائی ہیں اور جو ائنٹ فیملی کے طور پر ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، میرے بڑے بھائی کی شادی آج سے پانچ سال پہلے ہوئی تھی اور میری شادی کو سات ماہ ہوگئے ہیں ، میرے بڑے بھائی کی بیوی ایک کالج میں پڑھاتی ہے، اور جو پیسے وہ کماتی ہے گھر لا کر دیتی ہیں ، جبکہ میری بیوی بھی نیچر ہیں لیکن وہ کہتی ہے کہ میں پیسے گھر نہیں دے سکتی ، اپنے پاس رکھوں گی، اور بوقتِ ضرورت اپنے کام میں یا اپنے بچوں پر خرچ کروں گی، اس صورت حال میں آپ کا ایک فتوی پڑھا، جس میں صاف لکھا تھا کہ عورت کی کمائی پر مرد کا کوئی حق نہیں، یہ بات جب میں نے اپنے والدین سے کہی، تو وہ کہتے ہیں کہ اس سے ہمارا گھر ٹوٹ جائے گا، اور ہم بھائیوں میں نا اتفاقی پیدا ہو گی، اس لئے ضروری ہے کہ میری بیوی بھی پیسے گھر میں ہی دے، تا کہ ہمارے درمیان کوئی نا چاقی پیدا نہ ہو، اور ہم اتفاق کے ساتھ رہ سکیں، اگر میں اپنی بیوی پر دباؤ ڈالوں کہ وہ پیسے گھر میں دے تو بیوی ناراض ہوتی ہے، اور اگر بیوی پیسے گھر میں نہ دے، تو والدین ناراض ہوتے ہیں، اس معاملہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟
والدین اگر تنگدست ہوں تو ان کا اور اسی طرح اپنے بیوی بچوں کے نفقہ کی ذمہ داری شرعاً مرد پر عائد ہوتی ہے، عورت پر نہیں، لہذا مسئولہ صورت میں سائل اور اس کے بھائی کو چاہئیے کہ وہ اس ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے خود گھر بار کی مکمل کفالت کی فکر کریں، عورتوں پر اس کا بوجھ نہ ڈالیں، بلکہ عورت کی کمائی پر زندگی گزارنا نہ صرف یہ کہ خلافِ مروّت بلکہ انتہائی مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہے، اس سے اجتناب کرنا چاہئیے ، البتہ اگر واقعی کوئی معقول عذر ہو تو اس کی تفصیل لکھ کر مسئلہ دوبارہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔
كما في التنزيل العزيز: {الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ } [النساء: 34] ۔
و في الدر المختار: هي لغة: ما ينفقه الإنسان على عياله. وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته كمفت وقاض ووصي زيلعي اھ (3/ 572)۔
وفيه ايضاً : (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك، كذا في الزيلعي والعيني. وأفتى أبو حامد بعدمها لطلبة زماننا كما بسطه في القنية، ولذا قيده في الخلاصة بذي رشد (لا يشاركه) أي الأب ولو فقيرا (أحد في ذلك كنفقة أبويه وعرسه) به يفتى ما لم يكن معسرا فيلحق بالميت اھ (3/ 614)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كنفقة أبويه وعرسه) أي كما لا يشاركه أحد في نفقة أبويه ولا في نفقة زوجته اھ (3/ 615)۔