میں بے حد شرمندگی کے ساتھ اپنا مسئلہ پیش کر رہا ہوں ، مختصر سوال کروں گا؟ میری عمر 36 سال ہو چکی ہے، شادی کو آٹھ سال ہو گئے ہیں ؟ مطلب اچھا خاصا میچور ہوں ؟ میں فیس بک پر سیکس چیٹ کرتا تھا؟ یہ سیکس چیٹ مجھے بہت سے گناہوں میں مبتلا کر گئی، میں زنا اور لواطت دونوں کا شکار ہو گیا ۔ 10 سال تک یہ کرتا رہا، مولانا طارق جمیل صاحب کے بیان سن کر ندامت ہوئی ۔ دل سے پکی توبہ کی ہے، لیکن ایک گناہ ایسا ہے جس کا احساس دل سے نہیں جاتا اور میں ہر دم شدید ذہنی اذیت کا شکار رہتا ہوں ، میں دورانِ سیکس چیٹ مذہبی سیکس چیٹ بھی کرتا رہا ، صرف چند لحوں کی فضول تفریح سمجھ کر اسلام کا، اسلامی تعلیمات کا، نیک ترین ہستیوں کے بارے میں بہت غلط بولتا رہا ،جو میں بیان نہیں کر سکتا۔ مجھے معلوم تھا کہ میں اسلام سے خارج ہو جاؤں گا لیکن میں لگا رہا، اب میں کچھ مہینوں سے سب کچھ چھوڑ چکا ہوں، لیکن مجھے نہ جانے کیوں احساس رہتا ہے یا شائد شیطان مجھے بہکاتا ہے کہ اب میری توبہ قبول نہیں، کیونکہ میں مسلمان نہیں رہا۔
پلیز تفصیل سے میری راہ نمائی فرمائیں ۔ کیا میں اب بھی اسلام میں واپس آسکتا ہوں ؟ میں بہت زیادہ ذہنی کرب میں مبتلا ہوں ؟ میں یہ مسئلہ کسی سے بالمشافہ نہیں پوچھ سکتا؟ ہو سکے تو میری راہ نمائی کے ساتھ ساتھ مذہبی سیکس چیٹ کے بارے میں مفصل فتویٰ بھی جاری کریں کیونکہ یقین مانیں بے شمار مسلمان محض اسے تفریح سمجھ کر گناہ کر رہے ہیں اور اسلام سے خارج ہو رہے ہیں ؟ جزاک اللہ
مذکورہ عمل اگر چہ انتہائی سنگین ہے، مگر اللہ کی رحمت اور شانِ غفاری بھی بہت بڑی ہے ، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ مایوس ہونے کے بجائے تہہ دل سے تو بہ واستغفار اور آئندہ کے لئے اس عمل سے مکمل اجتناب کرے، امید ہے اللہ معاف فرمادیں گے۔
كما في التنزيل العزيز {قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ } [التوبة: 65، 66] ۔
و في سنن الترمذي: عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إن الله يقبل توبة العبد ما لم يغرغر».: هذا حديث حسن غريب. (5/ 547)۔
و في الفتاوى التاتارخانية: وان كانت نيته الوجه الذي يوجب التكفير، لا تنفعه فتوى المفتى . ويؤمر بالتوبة والرجوع عن ذلك، وبتجديد النكاح بينه وبين امراته " اھ (5/ 58)۔