گناہ و ناجائز

سرکاری اسکول میں استاذ کا درخت لگا کر اس کے پھل سے انتفاع حاصل کرنا

فتوی نمبر :
38882
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سرکاری اسکول میں استاذ کا درخت لگا کر اس کے پھل سے انتفاع حاصل کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس بارے میں کہ زید جو کہ ایک سرکاری اسکول میں استاذ ہے، زید اور اس کے ساتھیوں نے اسکول میں پھلدار اور سبزی کے پودے لگائے، اب سوال یہ ہیکہ زید اور اس کے ساتھ اور ساتھی یہ استعمال کر سکتے ہیں کہ نہیں ؟ اور اگر پودے اپنے پیسوں سے لیے تو کیا حکم ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سرکار کی طرف سے اگر اسکول میں درخت اور پودے لگانے کی ممانعت نہ ہو تو سائل اور اسکے ساتھیوں کے لئے اسکول میں پھلدار درخت اور سبزی کے پودے لگانا اور اس سے حاصل شدہ پھل اور سبزیوں کو استعمال کرنا جائز اور درست ہے ، چاہے وہ پھلدار درخت اور پودے اپنے پیسوں سے لیے ہوں یا کسی اور نے انہیں دیے ہوں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (ومن بنى أو غرس في أرض غيره بغير إذنه أمر بالقلع والرد وللمالك أن يضمن له قيمة بناء أو شجر أمر بقلعه إن نقصت الأرض به) أي بالقلع ولو زرعها يعتبر العرف فإن اقتسموا الغلة أنصافا أو أرباعا اعتبر وإلا فالخارج للزارع وعليه أجر مثل الأرض اھ (6/ 194)۔
وفي الفتاوى الهندية: وسئل شيخ الإسلام عطاء بن حمزة عمن زرع أرض إنسان ببذر نفسه بغير إذن صاحب الأرض هل لصاحب الأرض أن يطالبه بحصة الأرض قال نعم إن جرى العرف في تلك القرية أنهم يزرعون الأرض بثلث الخارج أو ربعه أو نصفه أو بشيء مقدر شائع يجب ذلك القدر الذي جرى به العرف اھ (5/ 144)۔
وفي مرقاة المفاتيح: تحت ھذا الحدیث: «ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» (إلی قوله) (" إلا بطيب نفس ") أي: بأمر أو رضا منه (5/ 1974)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسداللہ کرخی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38882کی تصدیق کریں
0     524
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات