گناہ و ناجائز

لڑکوں سے بدفعلی کرنا

فتوی نمبر :
39282
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

لڑکوں سے بدفعلی کرنا

میں نے بچپن میں آج سے 15 سال پہلے جب میں 15 سال کا تھا، دو مرتبہ دو مختلف لڑکوں سے دبر میں بدفعلی کی ، اور کروائی ، میں ایک نوجوان لڑکا تھا اور نہیں علم تھا کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے ، کیا اللہ مجھے معاف کردے گا میں اب اس کام سے شدید نفرت کرتا ہوں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے جو عمل کیا ہے وہ بہت بڑا گناہ اور قوم لوط والا عمل ہے، اس فعل کی مذمت پر قرآن کریم میں اللہ تعالی نے کئی آیات نازل فرمائی ہیں، اس لیے سائل پر لازم ہے کہ اس گناہ سے بصدق دل توبہ واستغفار کرے ، اور آئندہ اس گناہ سے مکمل اجتناب کرے، انشاء اللہ ضرور بخشش ہوجائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ(سورۃ الزمر ایة 53)ز
وفی مشکاۃ المصابیح: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «التَّائِبَ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ وَقَالَ تَفَرَّدَ بِهِ النَّهْرَانَيُّ وَهُوَ مَجْهُولٌ. وَفِي (شَرْحِ السُّنَّةِ) رَوَى عَنْهُ مَوْقُوفًا قَالَ: النَّدَمُ تَوْبَةٌ والتَّائبُ كمن لَا ذَنْبَ لَهُ(2/730 رقم الحدیث 2363)۔
وفیہ ایضاً: وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنْقَطِعُ الْهِجْرَةُ حَتَّى يَنْقَطِع التَّوْبَةُ وَلَا تَنْقَطِعُ التَّوْبَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ (2/725 رقم الحدیث 2346)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
زاہدوقاص عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 39282کی تصدیق کریں
0     34
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات