گناہ و ناجائز

سر اور داڑھی کے بالوں کو کالا کرنا یا رنگ لگانا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں تو اس کا کفارہ کیا ہے ؟

فتوی نمبر :
39324
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سر اور داڑھی کے بالوں کو کالا کرنا یا رنگ لگانا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں تو اس کا کفارہ کیا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سر اور داڑھی کے بالوں کو کالا کرنا یا رنگ لگانا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں تو اس کا کفارہ کیا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

خضاب کے بارے میں تفصیل یہ ہےکہ خالص سیاہ خضاب لگانا جمہور ائمہ و مشائخ رحمہم اللہ کے نزدیک مکروہ ہے اس سے احتراز لازم ہے، لیکن اس کا تو بہ واستغفار کے علاوہ کوئی کفارہ نہیں، البتہ خالص سیاہ خضاب اور خالص سیاہ مہندی کے علاوہ دوسرے کسی بھی رنگ کا خضاب یا مہندی لگانا بلا شبہ جائز بلکہ مستحب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح مسلم: عن جابر بن عبد الله، قال: أتي بأبي قحافة يوم فتح مكة ورأسه ولحيته كالثغامة بياضا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «غيروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد» (3/ 1663)
و في الدر المختار: يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح، والأصح أنه - عليه الصلاة والسلام - لم يفعله، ويكره بالسواد اھ (6/ 422)
و في الفتاوى الهندية: وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه اھ (5/ 359)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39324کی تصدیق کریں
0     33
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات