گناہ و ناجائز

ایک عالم کا مسجد کمیٹی سے امامت کی بات چلنے کے دوران دوسرے عالم کا مفت میں امامت کروانے کے لیے تیار ہونے کا حکم

فتوی نمبر :
39550
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ایک عالم کا مسجد کمیٹی سے امامت کی بات چلنے کے دوران دوسرے عالم کا مفت میں امامت کروانے کے لیے تیار ہونے کا حکم

السلام علیکم
کیا فر ما تے ہیں علماء کرام ا س مسئلے میں کہ ایک مسجد میں امام وخطیب کی ضروت تھی کچھ علما تشریف لائے جو مسجد انتظامیہ کے معیار پر پورا نہ اتر سکے لیکن ایک صاحب انتظامیہ کے معیار پر پورا اترے لیکن امام صاحب کی شرط کہ 15000 تنخواہ کے سا تھ فیملی رہائش بھی دی جائے۔ انتظامیہ سوچنے کے لیے وقت مانگتی ہے پھر یہ ہوتاہے کہ ایک مولانا آتے ہیں ا و ر بلا تنخواہ کے ذمہ داری قبول کرتے ہیں ا و ر انتظامیہ انہیں امام بنادیتی ہے ۔
۱۔ اپنی ضروریات کے لیے مطالبہ جائز ہے؟
۲۔ انتظامیہ کے پا س وافر مقدار میں فنڈ موجود ہے پھر بھی امام کو کم سے کم تنخواہ پر راضی کرنا جائز ہے؟
۳۔ جو مولانا بلا معاوضہ خدمات انجام دے رہے ہیں کیا یہ حق تلفی کے زمرے میں آتاہے ا گر ایسا ہے تو امام کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟
جواب عنایت فرماکر لوگوں کی غلط فہمی دور فرمادیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ا س میں کوئی شک نہیں کہ ا گر کوئی عالم صاحب ثروت ہو ا و ر وہ بغیر اجرت لیے امامت کا فریضہ انجام دے تو یہ ا س کیلئے باعث اجر ہے، مگر صورت مسئولہ میں مذکور مولوی صاحب کی مسجد انتظامیہ سے امامت کے سلسلے میں بات چل رہی تھی تو ایسے وقت میں کسی دوسرے مولوی صاحب کا بیچ میں آکر بغیر عوض امامت شروع کردینا نامناسب اقدام ہے جس سے احتراز چاہیے تھا، تاہم موجود امام صاحب کے پیچھے نماز بلا کراہت درست ادا ہوگی، جبکہ امام کا اپنی ضروریات کے مطابق مطالبہ رکھنا درست ہے، مگر انتظامیہ کے پا س فنڈموجود ہونے کے باوجود کم تنخواہ والا امام تلاش کرنا درست نہیں، بلکہ کم تنخواہ والے امام کی تلاش میں بعض مرتبہ نا اہل افراد کو ا س منصب پر بٹھایا جاتاہے جو قوم کو درست رہنمائی کرنے ا و ر دین سکھانے سے قاصر ہوتے ہیں نیز یہ خرابی بھی پیدا ہوتی ہے کہ جب امام اپنی ضروریات کیلئے مجبور ہوگا تو لا محالہ لوگوں کی طرف ا س کی نگاہ اُٹھے گی، جو اہلِ علم کی بدنامی کا باعث بنے گی، ا س لیے امام کی تنخواہ مقرر کرنی چاہے کہ وہ اپنی ضروریات کیلئے پریشان ا و ر محتاج نہ بنے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی العنایة شرح الهدایة: وهذا یفتی لزوم الاجری المسمی بالغا ما بلغ لکنهما اذا اتفقا علی مقدار فی الفاسد سقطت الزیادة وهذا یقتضی لزوم الاجر المسمی بالغًا ما بلغ لکن لما کانت التسمیة فاسدةً لم یجب من المسمّی ما زاد علی اجر المثل فاستقرّ الواجب علی ماهو الاقلّ من اجر المثل والمسمّی اھ (۹/ ۹۳)
وفی مبسوط للسرخسی: وقد دل علیه الحدیث الذی بدأ به الکتاب ورواه عن ابی هریرة وابی سعید رضی اللہ عنهما ان النبیﷺ قال: لا یستام الرجل علی سوم اخیه ولا ینکح علی خطبته الی قوله ومن استأجر اجیرا فلعلمه اجره وهذا حدیث طویل بدأ ببعضه کتاب النکاح وببعضه کتاب الاجارات وهو مشهور تلقته العلماء رحمهم اللہ بالقبول وبالعمل به وفیه دلیل علی انه لا یحل الاستیام علی سوم الغیر (الٰی قوله) قال سفیان بن عیینة رحمه اللہ بظاهر الحدیث إذا استام علی سوم الغیر واشتری أو نکح علی خطبة الغیر فالعقد باطل لان النهی یوجب فساد المنهی عنه ولکنا نقول هذا نهی لمعنی فی غیر المنهی عنه غیر متصل به وهو الاذی والوحشة الذی یلحق صاحبه. اھ (۱۵/ ۷۵)
وفی البدائع الصنائعح: (ولنا) ما روي عن النبیﷺ انه قال صلو خلف من قال لا الٰه إلا اللہ وقوله ﷺ صلوا خلف کل بر وفاجر والحدیث واللہ اعلم وإن ورد فی الجمع والأعیاد لتعلقهما بالأمرار واکثرهم فساق لکنه بظاهره حجة فیما نحن فیه، اذا العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص السبب، وکذ الصحابة رضی اللہ عنهم کابن عمر وغیره والتابعون اقتدوا بالحجاج فی صلاة الجمعة وغیرها من انه کان افسق اهل زمانه حتی کان عمر بن عبد العزیز یقول: لو جاءت کل امة بخبیثها وجئنا بأبی محمد لغلبناهم، وابو محمد کنیة الحجاج اھ (۱/ ۱۵۶) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 39550کی تصدیق کریں
0     129
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات