ہم ایک مہم پے کام کرتے ہیں، اور ہم لوگ آن لائن کے سافٹ ویر سے usa میں کال کرتے ہیں، اور ہم امریکہ کے لوگوں کو کار انشورنس ،میڈیکل انشورنس اور ہیلتھ انشورنس کی معلومات دیتے ہیں ،اور ڈسکاؤنٹ کے بارے میں بتاتے ہیں، جب کسی A کے بندے کو ہماری بات میں دلچسپی ہونے لگتی ہیں ،تو ہم اس وقت کال کو ٹرانسفر کر دیتے ہیں انشورنس والوں کے پاس، ان سب کی تنخواہ ہمیں وہ بندے دیتے ہیں، جس نے ہمیں مہم دیا ہے، اور یہ کام ساتھ کرنے میں ہمیں کافی وقت لگ گیا، اور ابھی یہ کام اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ تھوڑا اچھا چل رہا ہے، کیا اس میں انشورنس کا کوئی مسئلہ ہے ؟
سوال میں مذکور انشورنس کمپنیاں اگر قمار، غرر، سودی نظام کے تحت چل رہی ہوں، تو لوگوں کو ان کی طرف بھیج کر ان سے اپنی اجرت لینا درست نہیں، جس سے احتراز چاہیئے۔
كما في التنزيل العزيز: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ ﴿المائدة: 90)-
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم اھ (2/ 134) -
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0