گناہ و ناجائز

گھر میں ٹی وی استعمال کرنے کاحکم

فتوی نمبر :
4003
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

گھر میں ٹی وی استعمال کرنے کاحکم

محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
کیا ٹی وی پر خبریں اور دینی پروگرام دیکھنا جائز ہے،ٹی وی خریدنا جائز ہے، ٹی وی گھر میں رکھنا کیسا ہے؟ میں نے سنا ہے کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ جس گھر میں تصویر ہو اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، تو آیا میرے گھر میں ٹی وی کا ہونا ملائکۂ رحمت کے دخول کا مانع تو نہیں؟ براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب ارسال فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

موجودہ حالات میں ٹیلی ویژن بے شمار منکرات و محرمات اور فواحشات پر مشتمل ہے جس میں سے چند درجِ ذیل ہیں:
(۱) گانا بجانا، ساز سارنگی اور ڈھولک وغیرہ جو کہ قطعاً نا جائز ہیں، جبکہ ٹی وی کے اکثر پروگرام اسی پر مشتمل ہیں ان کے ہوتے ہوئے تو تصویر کے بغیر بھی کوئی پروگرام دیکھنا یا سننا جائز نہیں۔
۲۔ نامحرم مرد کا عکس کسی نامحرم عورت کو اور نامحرم عورت کا عکس یا تصویر کس نامحرم مردکو دیکھنا جائز نہیں جیسے آئینہ میں کسی نامحرم کو دیکھنا جائز نہیں جبکہ ٹی وی کے پروگرام نامحرم مرد و عورت پر ہی مشتمل ہوتے ہیں اور عام دیکھنے والے بھی نا محرم ہی ہوتے ہیں اور کسی شخص کا یہ کہنا کہ ٹی وی کی اسکرین پر براہ راست پیش ہونے والے مناظر تصویر نہیں بلکہ عکس ہیں ، بے سود ہے، اس لئے کی ٹی وی کا اصل حکم اس بات پر موقوف نہیں، بلکہ اس کی حرمت کی اصل وجہ اوپر بیان کر دی گئی ہے، پس ان مناظر کا دیکھنا قطعاً جائز نہیں۔ خواہ وہ تصویر ہوں یا عکس، پھر اسے عکس تسلیم کر بھی لیا جائے تو بھی بے پردہ فاحشہ عورتوں کی عکس کو دیکھنا کسی نے بھی جائز نہیں قرار دیا اس طرح عورتوں کے لئے نیم برہنہ مردوں کے عکس کو دیکھنا بھی کسی کے نزدیک جائز نہیں، اور اگر بالفرض اسے عکس تسلیم کر کے جائز بھی قرار دے دیں تب بھی بعض خارجی مفاسد کی بناء پر ایک جائز اور مباح کام ناجائز ہو جاتا ہے۔ جبکہ ٹی وی تو مجسمۂ فساد ہے اسے کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔
۳۔ پروگرام خواہ کسی نوعیت کا ہو ٹی وی کے جو عام اثرات سامنے آ رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ بے حیائی ، بے غیرتی، بے ادبی اور فحاشی اور عریانی جیسے دیگر جرائم نہایت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور پورا مسلم معاشرہ تباہ ہو کر رہ گیا ہے ظاہر ہے کہ ٹی وی کے حاصل اور انجام دیکھا جائےگا۔ اور اس کا انجام انتہائی خطرناک اور خلاف شرع ہے البتہ اگرٹی وی کا کوئی پروگرام بفرض محال مذکورہ بالا محرمات اور دیگر تمام مفاسد و منکرات سے بالکل خالی ہو اور نہایت پاکیزہ ہو تو اس کے جواز میں درجِ ذیل تفصیل ہے۔
تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ ٹی وی کے پروگرام تین قسم کے ہوتے ہیں۔
(۱) واقعات کی مصوَّر فلم ٹی وی پر دکھلائی جاتی ہے ۔
(۲) واقعات اور پروگرام براہِ راست نشر کیے جاتے ہیں۔
(۳) واقعات کی غیر مصوَّر فلم ریکارڈ کی طرح پہلے تیار کر لیتے ہیں جس میں آواز کے ساتھ کچھ غیر مرئی نقوش بھی ٹیپ ہو جاتے ہیں اور حسبِ موقع اس کو لگاتے ہیں جس میں سے آواز کی طرح تصاویر بھی آجاتی ہیں۔ ان میں سے پہلی صورت میں جو کچھ دکھلایا جاتا ہے خواہ کتنا ہی پاکیزہ ، مذہبی اور تعلیمی نوعیت کا پروگرام ہو وہ بلا شبہ تصویر ہے اور جاندار کی تصویر دیکھنا دکھلانا قطعاً حرام ہے اس میں متحرّک اور غیر متحرّک تصاویر کے حکم میں کوئی فرق نہیں کیونکہ جس طرح جانداروں کی تصویریں بنانا حرام ہے، اسی طرح بلا عذر قصداً ان کو دیکھنا بھی حرام ہے جیسا کہ مابعد کی عبارت سے معلوم ہو رہا ہے۔(كذا فی تصویر کے شرعی احکام مصنفہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع۔صاحب دیوبندی رحمہ اللہ -ص ۷۷)۔
(نوٹ) اس سلسلے میں اگر مفصّل دلائل مطلوب ہوں تو حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ رحمہ الله کے رسالہ ( تصحیح العلم في تقبیح الفلم) کا مطالعہ فرمائیں ۔البتہ دوسری اور تیسری صورت میں جو کچھ دکھلایا جاتا ہے اسے قطعی طور پر تصویر کہنے میں تامُّل ہے، مگر چونکہ ٹی وی کے پروگرام کے متعلق ہر وقت ہر جگہ اور ہر شخص کس طرح یقین کرے کہ پروگرام کی فلم آرہی ہے یا براہِ راست پروگرام ہو رہا ہے اور مسئلہ حرام اور غیر حرام کا ہے، جس میں ترجیح حرمت کو ہوتی ہے، اس لئے اس بنیاد پر مطلقا ٹی وی دیکھنے کو جائز سمجھنا یا بتلانا درست نہیں بالخصوص جبکہ مذکورہ بالا منکرات وفواحش ٹی کے پروگراموں میں جزء لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں تو ایسی صورت میں ٹی وی خریدنا، گھر میں رکھنا اور دیکھنا کسی بھی طرح جائز نہیں اور ملائکۂ رحمت کے دخول کا سببِ مانع بھی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وهذا كله مصرّح في مذهب المالكية ومويد بقواعد مذهبنا ونصه عن المالكية ما ذكره العلامة البدرالدين في شرحه على مختصر الخليل حيث قال یحرم تصویر حیوان عاقل او غیره اذا كان كامل الاعضاء إذا کان یدوم وکذا ان لم يدم على الراجح كتصويره من نحو قشر بطيخ ویحرم النظر اليه اذا النظر إلى المحرم حرام اھ ( بلوغ القصد والمرام، ص ۱۹)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
نیاز احمد گلاب شاہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4003کی تصدیق کریں
0     519
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات