السلام علیکم محترم جناب مفتی صاحب ! ہم چند اسٹوڈنٹس ایک اسکول میں پڑھ رہے ہیں، ہمارے چند ٹیچرز اسٹوڈنٹس کے درمیان مساوی سلوک نہیں رکھتے ، بلکہ بعض کو بعض پر بلاوجہ ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے دوسروں کی دل آزاری ہوتی ہے ۔ کیا ٹیچرز کے لیے ایسا رویہ اپنانا جائز ہے ؟
استاد کو اگر چہ مساویانہ سلوک رکھنا چاہیے، مگر شاگردوں کا اپنے استادوں پر بدگمانی کرنا اور ان پر معترض ہونا خطر ناک عمل ہے جو حقیقی علم سے محرومی کا باعث بن سکتا ہے، تا ہم اگر ان ٹیچروں کے غیر مساویانہ سلوک کی بصورت مثال نشاندہی کر دی جائے تو خاص اس صورت کا حکم شرعی بھی تحریر کیا جائے گا۔والله الموفق والمعين