گناہ و ناجائز

اساتذہ کا طلباء کے درمیان عدل و انصاف نہ کرنے کاحکم

فتوی نمبر :
4070
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

اساتذہ کا طلباء کے درمیان عدل و انصاف نہ کرنے کاحکم

السلام علیکم محترم جناب مفتی صاحب ! ہم چند اسٹوڈنٹس ایک اسکول میں پڑھ رہے ہیں، ہمارے چند ٹیچرز اسٹوڈنٹس کے درمیان مساوی سلوک نہیں رکھتے ، بلکہ بعض کو بعض پر بلاوجہ ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے دوسروں کی دل آزاری ہوتی ہے ۔ کیا ٹیچرز کے لیے ایسا رویہ اپنانا جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

استاد کو اگر چہ مساویانہ سلوک رکھنا چاہیے، مگر شاگردوں کا اپنے استادوں پر بدگمانی کرنا اور ان پر معترض ہونا خطر ناک عمل ہے جو حقیقی علم سے محرومی کا باعث بن سکتا ہے، تا ہم اگر ان ٹیچروں کے غیر مساویانہ سلوک کی بصورت مثال نشاندہی کر دی جائے تو خاص اس صورت کا حکم شرعی بھی تحریر کیا جائے گا۔والله الموفق والمعين

واللہ تعالی اعلم بالصواب
آصف عثمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4070کی تصدیق کریں
0     16
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات