محترم مفتی صاحب! آپ صاحبان نے ایزی پیسہ اکاؤنٹ کے بارے میں فرمایا ہے کہ بنفسہ اس میں رقم رکھنا جائز ہے لیکن اس پہ جو فری منٹس وغيره دی جائے، وہ حرام ہے، اب سوال یہ ہے کہ ان فری منٹس کا کیا کیا جائے گا، جب وہ مل جائے، حالانکہ انسان کو رابطہ کرنے کی ضرورت در پیش ہوتی ہے، تو وہ رابطہ کیسے کرے گا۔ حالانکہ منٹس کا استعمال جو حرام ہے ؟
ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں پیسے رکھنے کے بدلے میں جو فری منٹس ملتے ہیں، ان کو استعمال کرنا جائز نہیں، لہذا اب تک جو فری منٹ وغیرہ سے سائل مستفید ہوا ہے ، اس پر سائل کو توبہ واستغفار کرنا چاہیے ، اور آئندہ کے لئے متعلقہ کمپنی سے رابطہ کر کے فری منٹس کی آمد کو بند کروائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔