گناہ و ناجائز

مدعی سے بینہ لینے کے بجائے قسم دے کر صلح کروانا

فتوی نمبر :
41826
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مدعی سے بینہ لینے کے بجائے قسم دے کر صلح کروانا

1:قطع نظر مدعی اور مدعی علیہ کے رفع نزاع کے لیے کسی ایک کو حلف دے کر صلح کرایا جا سکتا ہے؟
2: ایک آدمی صلح پر پندرہ سال سے زائد عرصہ راضی رہتا ہے،اور اس کی وفات کے بعد اس کا بیٹا صلح ماننے سے انکا ر کرتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مدعی کو قسم دینا تو اصول دعوی اور شریعت کے خلاف ہے، اس لئے مدعی کو قسم دے کر صلح کرانا درست نہیں ، البتہ اگر مدعی اور مدعی علیہ کی تعین نہ ہوئی ہو، اور قطع خصومت کے لئے لا علی التعین فریقین میں سے کسی ایک کو قسم دے کر صلح کرلی جائے تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے کہ ایک بار صلح ہو جانے کے بعد جب اس پر پندرہ سال تک عمل درآمد ہوتا رہا، تو اب وفات کے بعد اس کے بیٹے کا مذکور صلح سے انکا ر کرنا درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الفتاوى الهندية: ادعى أحدهما التلجئة وأنكر الآخر فالبينة على المدعي واليمين على المنكر كذا في التهذيب اھ (3/ 210)۔
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق:(قوله ولا ترد يمين على مدع) لقوله - عليه السلام - «البينة على المدعي واليمين على من أنكر» قسم والقسمة تنافي الشركة وجعل جنس الأيمان على المنكرين، وليس وراء الجنس شيء، و في البزازية برهن على دعواه فطلب من القاضي أن يحلف المدعي أنه محق في الدعوى أو على أن الشهود صادقون أو محقون في الشهادة لا يجيبه قال علامة خوارزم الخصم لا يحلف مرتين فكيف الشاهد فإن قول الشاهد أشهد يمين؛ لأن لفظ أشهد عندنا، وإن لم يقل بالله يمين فإذا طلب منه الشهادة في مجلس القضاء فقال أشهد فقد حلف، ولا يكرر اليمين؛ لأنا أمرنا بإكرام الشهود، و في التحليف تعطيل الحقوق، وأن الشاهد إذا علم أن القاضي يحلفه بالمنسوخ له الامتناع عن أداء الشهادة؛ لأنه لا يلزم عليه، ومن أقدم على الشهادة الباطلة يقدم على الحلف أيضا غالبا لترويج الباطل، وإذا لم يحلف ورد شهادته فقد ظلم بخلاف اليمين في باب اللعان؛ لأن كلمات اللعان جارية مجرى الحد فناسب التغليظ. اهـ. (7/ 204) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ابراہیم محمود عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 41826کی تصدیق کریں
0     616
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات