گناہ و ناجائز

ایزی پیسہ کی طرف سے ملنے والے فری منٹ استعمال کرنے کاحکم

فتوی نمبر :
42020
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ایزی پیسہ کی طرف سے ملنے والے فری منٹ استعمال کرنے کاحکم

ٹیلی نار ایزی پیسہ اکائونٹ میں 1000 روپے رکھنے پر فری منٹ ملتے ہیں کیا یہ جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس میں پیسے رکھنا فی نفسہ جائز ہے ، مگر اس میں رکھے جانے والے پیسوں کی حقیقت شرعا قرض کی ہے ، اور قرض پر کسی قسم کا معروف یا مشروط نفع حاصل کرنا سود کے زمرہ میں آتا ہے ، اس لئے جو بھی کمپنی مفت منٹس اس قرض کے بدلے دیتی ہو، تو وہ مفت منٹس حاصل کر کے استعمال کرنا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166) والله اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہد عظمت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 42020کی تصدیق کریں
0     15
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات