ٹیلی نار ایزی پیسہ اکائونٹ میں 1000 روپے رکھنے پر فری منٹ ملتے ہیں کیا یہ جائز ہے ؟
واضح ہو کہ ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس میں پیسے رکھنا فی نفسہ جائز ہے ، مگر اس میں رکھے جانے والے پیسوں کی حقیقت شرعا قرض کی ہے ، اور قرض پر کسی قسم کا معروف یا مشروط نفع حاصل کرنا سود کے زمرہ میں آتا ہے ، اس لئے جو بھی کمپنی مفت منٹس اس قرض کے بدلے دیتی ہو، تو وہ مفت منٹس حاصل کر کے استعمال کرنا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به اھ (5/ 166) والله اعلم بالصواب!