گناہ و ناجائز

بیوہ عورت سے چوری کی گئی رقم کی تلافی کیسے ہوگی؟

فتوی نمبر :
42186
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بیوہ عورت سے چوری کی گئی رقم کی تلافی کیسے ہوگی؟

مفتی صاحب !
میرا ایک سوال ہے ،اور اس کی رہنمائی درکار ہے،2011 میں، میں نہم جماعت کا طالب علم تھا، اور ہمارے گھر میں ایک بیوہ مزدور عورت جو کہ روز کہی سے مزدوری کر کے اپنی جمع پونجی ہمارے گھر لا کر رکھتی تھی اپنے صندق میں ، تو اس وقت میری عمر 14 سال تھی، نا سمجھی اور معاشرے کی خراب صورتحال اور والدین کی نافرمانی کی صورت میں ایک عام رجحان تھا ،تومیں اس کے صندوق کا تالا توڑ کر قریب بیس (20000) ہزار اپنی ضرورت کے تحت وقفے وقفے سے چرائے تھے، اور اس عورت کو بھی اس بات کا پتہ چل گیا کہ اس نے میرے پیسے چرائے اور والدین کو بھی پتہ چل گیا تھا، تو مجھے کافی مار بھی پڑی ۔چونکہ میں نےاس عورت سے زیادتی اور ظلم کیا ہے، میں ہر جگہ ہر کام میں ناکام ہوجاتا ہوں ، شاید اس کبیرہ گناہ کی وجہ سے میرا تعلیمی کیرئیر تباہ ہوگیا ہے، اور جو بھی کام کرتا ہوں ، ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے، اب وہ عورت جس کا میں مجرم ہوں وہ فوت ہوچکی ہے، اب اس نے شاید مجھے معاف کیا یا نہیں کیا مجھے معلوم نہیں ہے، لیکن میں اس سے معافی نہیں مانگ پایا اب اس گناہ کا کفارہ کیا ہوگا؟ اور کس طرح سے ادا ہوگا،؟
اسلامی تعلیمات وقوانین کی روشنی میں وضاحت اور رہنمائی فرمادیں۔تاکہ کفارہ ادا کر کے خدا کی ذات اقدس سے بھی معافی کا حقدار ٹھہروں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے جتنی رقم چرائی تھی، اتنی ہی رقم مذکور مرحومہ ملازمہ کے ورثاء کو دینا لازم ہے، البتہ اگر کوشش اور تلاش کے باوجود اس کے ورثاء کا علم نہ ہوسکے، تو اتنی ہی رقم مرحومہ کی طرف سے صدقہ کردے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اس گناہ پر اللہ کے حضور صدق دل سے توبہ واستغفار بھی کرے، تو انشاء اللہ مؤخذہ اخروی سے سبکدوشی کے ساتھ دیناوی مشکلات بھی آسان ہو جائیگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الھندیة: وسئل يوسف بن محمد عن غاصب ندم على ما فعل وأراد أن يرد المال إلى صاحبه وقع له اليأس عن وجود صاحبه فتصدق بهذا العين الخ (5/157)۔
وفیھا ایضاً: رجل له خصم فمات ولا وارث له يتصدق عن صاحب الحق الميت بمقدار ذلك ليكون وديعة عند الله فيوصل إلى خصمائه يوم القيامة هكذا في الفتاوى العتابية. الخ (5/157)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمیراختر علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 42186کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات