سمارٹ موبائل تصویر کی وجہ سے نجس العین ہے، تو اس نجس والی جگہ پر قرآن مجید اور سنت کا پڑھا جانا اور دوسرے اسلامک مسئلہ کو پیش کرنا اسلام کی توہین نہیں ہوگی؟ جبکہ سمارٹ موبائل کی نجاست بہت غلط ویڈیوز کی وجہ سے ہر نئے دن کے ساتھ بڑھتی جارہے ہیں۔
سمارٹ فون میں غلط ویڈیوز اور تصاویر وغیرہ رکھنا تو شرعاً جائز نہیں ، جس کی وجہ سے ایسا کرنے والا گناہ گار ہوگا، جس پر اسے توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس طرح کرنے سے اجتناب لازم ہے، لیکن محض موبائل میں غلط مواد رکھنے کی وجہ سے موبائل نجس العین نہ ہوگا،لہذا ایسے موبائل میں قرآن مجید یا احادیث مبارکہ پڑھنا یادوسرے اسلامی پر گرام دیکھنا شرعاً اسلام کی توہین کے زمرے میں داخل نہ ہوگا۔
کما فی تکملة فتح الملھم: اما التلفزیون والفدیو ، فلاشک فی حرمة استعمالھما بالنظر الی مایشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ (الی قولہ) اما الصورۃ التی لیس لھا ثبات واستقرار ولیست منقوشة علی شئی بصفة دائمة فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ ، ویبدو ان صورۃ التفلزیون والفدیو لاتستقر علی شئی فی مرحلة من المراحل الخ (4/164)۔