گناہ و ناجائز

دکانداروں کا کسٹمر کی طرف سے ملنے والے منافع کو اپنے لئے بچانے کےلئے دوسرا اکاؤنٹ بنانے کا حکم

فتوی نمبر :
42633
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

دکانداروں کا کسٹمر کی طرف سے ملنے والے منافع کو اپنے لئے بچانے کےلئے دوسرا اکاؤنٹ بنانے کا حکم

السلام علیکم!
میری ایزی پیسہ کی دوکان ہے،ایزی پیسہ کمپنی کی پالیسی ہے کہ اگر ایک ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہولڈر دوسرے ایزی پیسہ اکاؤنٹ ہولڈر کو اپنے کاؤنٹ سے پیسے بھیجتا ہے تو وہ فری ہے،لیکن اگر کسٹمر اپنے اکاؤنٹ سے پیسے نکلواتا ہے تو کمپنی 100 پر 20 روپے کے حساب سے پیسے کاٹتی ہے،اب کچھ دکانداروں نے بھی اپنا الگ سے اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے،اگر ان کے پاس کسٹمر آتا ہے کہ میں نے اکاؤنٹ سے پیسے نکلوانے ہیں تو دکاندار وہ پیسے نکالنے کی جگہ وہ پیسے اپنے اکاؤنٹ میں ڈال دیتا ہے یا اپنے بینک اکاؤنٹ میں ڈال دیتا ہے،جس کی وجہ سے جو سروس چارجز کمپنی لیتی ہے وہ چارجز دکاندار کو بچ جاتےہیں،کیا یہ پیسے اسلامی نقطہ نظر سے ٹھیک ہیں کہ نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر کمپنی کی طرف سے ایزی پیسہ ریٹیلر کو کسٹمر کے اکاؤنٹ سے اپنے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کی اجازت نہ ہو تو ایسی صورت میں ریٹیلر کا کسٹمر کے اکاؤنٹ سے اپنے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کرنا اور اس پر کسٹمر سے چارجز لینا کمپنی اور کسٹمر کے ساتھ دھوکہ دہی کی ایک صورت ہے،جوکہ شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الصحیح لمسلم: عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رسول اللہ ﷺ من حمل علینا السلاح فلیس منا ومن غشنا فلیس منا اھ(1/70)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 42633کی تصدیق کریں
0     577
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات