مفتی صاحب !
میں ایک پرائیوٹ کمپنی میں کام کر رہا ہوں ، کمپنی نے مجھے پٹرول بھرنے کے لیے ایک کارڈ مہیا کیا ہے ، اس کارڈ کے ذریعے میں گاڑی میں تیل بھرتا ہوں، تو کیا میں اس کارڈ کے باقی ماندہ حصہ کو رقم میں بدل سکتا ہوں؟ کیا یہ اسلام میں جائز ہے؟
کسی بھی ادارے کی طرف اپنے ملازمین کے لیے پیٹرول کی مد میں سہولت میسر کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملازم اس مقدار تک اس سہولت سے استفادہ اکر سکتا ہے، لیکن مطلوبہ مقدار مکمل کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں ہوتا ، اور نہ ہی عموماً اس سہولت کو ادارہ کے استعمال کے بجائے دوسروں کو فروخت کرنے یا ہدیہ کرنے کی اجازت ہوتی ہے اس لیے سائل کو اگر باقاعدہ کمپنی کی طرف سے مذکور مقدار پوری کرنے کے لیے کمپنی کے استعمال کے علاوہ دوسرے کاموں میں خرچ کرنے کی صراحۃً اجازت نہ ہو، تو سائل کے لیے زائد پٹرول کو رقم بنانا اور اس رقم کو ذاتی استعمال میں لانا شرعاً درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
كما قوله كما في قوله تعالى: {لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [البقرة: 188]
و في صحيح البخاري: وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم» اھ (3/ 92)
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)