گناہ و ناجائز

خواتین کا مدرسہ میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کاشرعی حکم

فتوی نمبر :
4351
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

خواتین کا مدرسہ میں رہ کر تعلیم حاصل کرنے کاشرعی حکم

السلام علیکم مفتی صاحب! میں مدرسۃ البنات کی حقیقت جاننا چاہتی ہوں ۔ کیا ہم رہائشی مدرسہ میں رہ کر پڑھ سکتے ہیں یا اس میں کوئی حرج ہے؟ اصل میں میرے گھر کے آس پاس کوئی مدرسۃ البنات نہیں تو ایسی صورت میں ہم کیا کریں گھر رہ کر پڑھنا نا ممکن ہو گیا، اب میں کیا کروں کسی رہائشی مدرسہ میں رہ کر پڑھ سکتی ہوں؟ اگر پڑھ سکتی ہوں تو بڑے بڑے علماء نے رہائشی مدرسے کے خلاف کیوں فتوے دیے ہیں ۔ برائے مہربانی تفصیل و وضاحت سے جواب دیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ عورت کا گھر سے نکلنا فتنہ سے خالی نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ نصوصِ شرعیہ میں انہیں گھروں میں ٹھہرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور ان کے محارم اور شوہر وں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ انہیں علوم سے آشنا کریں۔ اب اگر کسی عورت کے لئے ایسا کوئی انتظام نہ ہو اور وہ باقاعدہ علوم دینیہ کے لئے یا محض علمی مجالس میں شرکت کے لیے اپنے گھر سے اس طور پر نکلے کہ آتے جاتے غیر محرم کے ساتھ اختلاط نہ ہو، اور نہ ہی مدرسہ وغیرہ جا کر اس قسم کے کسی فتنہ کا اندیشہ ہو، اور نہ غیر محارم کی دسترس وہاں پر ہو، اور یہ آنا جانا محارم کے ساتھ ہی ہو تو اس صورت میں گھر سے باہر نکل کر بھی عورت کے لیے علوم دینیہ کا سیکھنا جائز اور درست ہے۔ اور پھر عام طور پر ان شرائط کی پابندی ملحوظ نہیں رکھی جاتی جس کی بناء پر کئی ایک واقعات بھی رونما ہو چکے ہیں اس لیے بعض علماء اس سے منع فرماتے ہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

وقال الله تعالى : {وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى } [الأحزاب: 33]
ففي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: فإن أرادت أن تخرج إلى مجلس العلم بغير رضا الزوج ليس لها ذلك فإن وقعت لها نازلة إن سأل الزوج من العالم أو أخبرها بذلك لا يسعها الخروج وإن امتنع من السؤال يسعها من غير رضا الزوج وإن لم تقع لها نازلة لكن أرادت أن تخرج إلى مجلس العلم لتتعلم مسألة من مسائل الوضوء والصلاة فإن كان الزوج يحفظ المسائل ويذكر عندها فله أن يمنعها وإن كان لا يحفظ فالأولى أن يأذن لها أحيانا وإن لم يأذن فلا شيء عليه ولا يسعها الخروج ما لم يقع لها نازلة اھ (4/ 212)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سیف اللہ کاغانی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4351کی تصدیق کریں
0     11
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات