گناہ و ناجائز

امتحان میں نقل کیلئے بندہ تلاش کرکے دینا کیسا ہے؟

فتوی نمبر :
43698
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

امتحان میں نقل کیلئے بندہ تلاش کرکے دینا کیسا ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ میرا ایک دوست اپنی ترقی کے لیے ایک امتحان پاس کرنا چاہتا ہے، جو وہ آج تک کئی بار کوشش کے پاس نہیں کرسکا، اس کا تعلق ایک دیہی علاقے سے ہے، اس کے امتحان کے پرچے اسلام آباد میں چیک ہوتے ہیں، میری رہائش اسلام آباد میں ہونے کی وجہ سے وہ مجھے مجبور کر رہا ہے، کہ اس کی مدد کروں، اور کوئی بندہ تلاش کرکے اس کو پیسے دے کر پرچہ پاس کروایا جائے، میں اس سے اس کے عوض رقم نہیں لینا چاہتا، لیکن وہ مجھے اس کام کے لیے بھاگ دوڑ کرنے کی بدلے میں تحفہ کے طور پر کچھ دینے کی پیشکش کر رہاہے، کیا کسی ایسے بندے سے اس کا رابطہ کروانا بھی حرام ہے؟ نیز: اگر اس طرح وہ ترقی کرکےناجائز پیسہ کماتا ہے تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا اپنے دوست کے پرچے حل کروانے کے لیے کسی دوسرے شخص سے دوست کا رابطہ کروانا چونکہ معصیت میں معاونت ہے، اس لیے سائل کے لیے اپنی دوست کا کسی دوسرے شخص سے رابطہ کروانا اور اس کے عوض ھدیہ ، تحفہ کے نام کوئی چیز لینا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (سورۃ المائدۃ ایة 2)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: وقوله تعالى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى الخ (3/296)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟» قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ؟ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مني» . رَوَاهُ مُسلم(5/1935 رقم الحدیث 2860)۔
وفیہ ایضاً: (وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) : بِالْوَاوِ (قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ» ) : أَيْ: مُعْطِي الرِّشْوَةِ وَآخُذَهَا، وَهَى الْوَصْلَةُ إِلَى الْحَاجَةِ بِالْمُصَانَعَةِ، وَأَصْلُهُ مِنَ الرِّشَاءِ الَّذِي يُتَوَصَّلُ بِهِ إِلَى الْمَاءِ، قِيلَ: الرِّشْوَةُ مَا يُعْطَى لِإِبْطَالِ حَقٍّ، أَوْ لِإِحْقَاقِ بَاطِلٍ، أَمَّا إِذَا أَعْطَى لِيَتَوَصَّلَ بِهِ إِلَى حَقٍّ، أَوْ لِيدْفَعَ بِهِ عَنْ نَفْسِهِ ظُلْمًا فَلَا بَأْسَ بِهِ، وَكَذَا الْآخِذُ إِذَا أَخَذَ لِيَسْعَى فِي إِصَابَةِ صَاحِبِ الْحَقِّ فَلَا بَأْسَ بِهِ، الخ (6/2437 رقم الحدیث3753)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 43698کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات