السلام علیکم
میرے 2 سوال ہیں ، میں اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی میں کام کرتا ہوں، ہمیں یہ بات بتائی گئی ہے کہ یہ وزارت تجارت کے تحت کام کرتی ہے، اور اس میں کوئی سود والا معاملہ نہیں ہے، جبکہ بینک کی جانب سے لی گئی انشورنس میں سود ہے، کیونکہ وہ وزارت فنانس کے تحت کام کرتے ہیں ، اسٹیٹ لائف PIA ، ریلوے، بلڈنگ کی خرید و فروخت یا رینٹ اور گورنمنٹ کے تحت چلنے والے کاموں میں انویسٹ کرتا ہے اور منافع کماتا ہے اور لوگوں میں ایک خاص مدت کے بعد تقسیم کر دیتا ہے، اس میں منافع فکس نہیں ہے، اگر ہو گا تو دے دیں گے تو نہیں ، جبکہ سودی نظام کے تحت منافع فکس ہوتا ہے جیسا کہ بینک میں فکس فیصد بتا دیا جاتا ہے کہ 10 سال بعد اتنا اور 15 یا 20 سال بعد اتنا اب کیا اسٹیٹ لائف انشورنس کمپنی میں نوکری کی جا سکتی ہے؟ اور انشورنس کرنا یا کسی کی کروانا ٹھیک ہے؟
اسٹیٹ لائف انشورنش کے پالیسی جوا اور قمار کی ایک قسم ہونے کے ساتھ سودی معاملہ بھی ہے جو کہ شرعاً جائز نہیں، اس لئے مذکور کمپنی میں ملازمت اختیار کرنا یا انشورنش کی کوئی پالیسی لینا خواہ وہ زندگی سے متعلق ہو یا دیگر اموال سے کہ اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر کسی پالیسی کو قانوناً لازم قرار دیا جائے اور اسے اختیار کیے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو تو ایسی پالیسی کو اپنانے کی شرعاً بھی گنجائش ہوگی ۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0