گناہ و ناجائز

زنا سے حمل کے بعد اسی عورت سے نکاح کرنے سے بچے کے نسب کا حکم

فتوی نمبر :
44144
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

زنا سے حمل کے بعد اسی عورت سے نکاح کرنے سے بچے کے نسب کا حکم

کیا زنا سے ہونے والا بچہ جائز ہو سکتا ہے اگر تین مہینے میں نکاح کر لیا جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر بچہ نکاح کے چھ ماہ بعد یا اس سے زائد عرصہ میں پیدا ہو جائے تو وہ بچہ شرعاً جائز اور اس کا نسب شوہر سے ثابت ہو گا، ورنہ ولد الزنا شمار ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار: لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا والولد له ولزمه النفقة۔اھ (وفي رد المحتار: تحت) (قوله: والولد له) أي إن جاءت بعد النكاح لستة أشهر مختارات النوازل، فلو لأقل من ستة أشهر من وقت النكاح، لا يثبت النسب، ولا يرث منه إلا أن يقول هذا الولد مني، ولا يقول من الزنى خانية. والظاهر أن هذا من حيث القضاء، أما من حيث الديانة فلا يجوز له أن يدعيه؛ لأن الشرع قطع نسبه منه، فلا يحل له استلحاقه به ولذا لو صرح بأنه من الزنى لا يثبت قضاء أيضا، وإنما يثبت لو لم يصرح لاحتمال كونه بعقد سابق أو بشبهة حملا لحال المسلم على الصلاح، وكذا ثبوته مطلقا إذا جاءت به لستة أشهر من النكاح لاحتمال علوقه بعد العقد، وأن ما قبل العقد كان انتفاخا لا حملا ويحتاط في إثبات النسب ما أمكن۔اھ (3/49)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 44144کی تصدیق کریں
0     971
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات