گناہ و ناجائز

قضاءِ حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا

فتوی نمبر :
44196
| تاریخ :
2021-03-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

قضاءِ حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میں ایک سرکاری ادارے اسلام آباد میں ملازم ہوں، جہاں کچھ باتھ رومز میں انگلش و انڈین سیٹیں اس طرح سے لگی ہوئی ہیں کہ، استعمال کرتے وقت انسان کو قبلہ رُخ ہونا پڑتا ہے، گویا رفع حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا پڑتا ہے، کیا اس سے قبلہ کی توہین نہیں ہوتی؟ براہِ مہربانی قرآن وسنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں کہ، ہمیں کیا کرنا چاہیئے ؟ جو افراد ایسے باتھ رومز استعمال کرتے ہیں، گنہگار ہو رہے یا نہیں؟ اس مسئلہ کا حل تجویز فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ قضاءِ حاجت خواہ کھلی فضاء میں ہو یا گھروں میں یا سرکاری اداروں کے واش روم میں، بہرصورت اس وقت چہرہ یا پشت قبلہ کی طرف کرنا از روئے حدیث ممنوع اور مکروہ تحریمی ہے، لہٰذا مذکورہ ادارہ میں جو بیت الخلاء قبلہ رُخ بنے ہوئے ہیں، ان بیت الخلاؤں کو توڑ کر دوسری سمت کرنا ضروری ہے، تاہم جب تک اس پر عمل درآمد نہ ہو، تب تک کےلیے ان بیت الخلاء میں قضاءِ حاجت کے وقت جہاں تک ممکن ہو ، قبلہ سے رُخ پھیر کر بیٹھنا چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی حاشية ابن عابدين: (قوله: لإطلاق النهي) وهو قوله: - صلى الله عليه وسلم - «إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها، ولكن شرقوا أو غربوا» رواه الستة، وفيه رد لرواية حل الاستدبار، ولقول الشافعي بعدم الكراهة في البنيان أخذا من «قول ابن عمر - رضي الله تعالى عنهما - رقيت يوما على بيت حفصة فرأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقضي حاجته مستقبل الشام مستدبر الكعبة» رواه الشيخان. ورجح الأول بأنه قول وهذا فعل، والقول أولى؛ لأن الفعل يحتمل الخصوصية والعذر وغير ذلك، وبأنه محرم وهذا مبيح، والمحرم مقدم وتمامه في شرح المنية (قوله: قبالة) بضم القاف بمعنى تجاه قاموس. اهـ. ط. (قوله: فانحرف عنها) أي: بجملته أو بقبله حتى خرج عن جهتها والكلام مع الإمكان، فليس في الحديث دلالة على أن المنهي استقبال العين كما لا يخفى فافهم. (قوله: حتى يغفر له) أي: تقصيره في عدم تثبته حتى غفل واستقبلها، أو المراد غفران ما شاء الله تعالى من ذنوبه الصغائر {إن الحسنات يذهبن السيئات} [هود: 114] . (قوله: وإلا فلا بأس) أي: وإن لم يمكنه فلا بأس، والمراد نفي الكراهة أصلا. ويحتمل أن المعنى وإن لم ينحرف مع الإمكان فلا بأس كما في النهاية وحينئذ فالمراد به خلاف الأولى كما هو الشائع في استعماله، وإلى ذلك أشار الشارح أولا بقوله ندبا اھ (1/ 342)
وفی الفتاوى الهندية: وكره استقبال القبلة بالفرج في الخلاء واستدبارها وإن غفل وقعد مستقبل القبلة يستحب له أن ينحرف بقدر الإمكان كذا في التبيين ولا يختلف هذا عندنا في البنيان والصحراءكذا في شرح الوقاية اھ (1/ 50) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدفیصل ابوبکر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 44196کی تصدیق کریں
0     472
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات