السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میں ایک نجی تنظیم میں کام کرتا ہوں، کمپنی گاڑی کے لئے ادھار کی غیر سودی سہولت فراہم کرتی ہے، مگر گاڑی کی انشورنس کروانا ضروری ہے جو کہ ہماری ذمہ داری ہے اور انشورنس کی رقم کی ادائیگی بھی ہماری ذمہ داری ہے، سوال یہ ہے کہ کیا مجھے گاڑی کے لئے ایسا ادھار لینا چاہیئے جس کی انشورنس کروانا لازمی ہو، براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں کہ کیا انشورنس سود کی کوئی قسم ہے؟
واضح ہو کہ مروّجہ انشورنس سود قمار اور غرر پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے، جس سے اجتناب لازم ہے، البتہ گاڑی کی انشورنس کروانا اگر قانونا لازم ہو تو سائل کے لئے گاڑی خرید کر اس کی انشورنس کروانے کی گنجائش ہوگی، اس صورت میں سائل گناہ گار نہ ہوگا بلکہ وہ حکومتی عہدہ داران جو قانون بنانے والے ہیں وہ بھی ذمہ دار ہونگے۔
قال اللہ تعالی: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (سورۃ البقرہ ایۃ 275)۔
وقال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (سورۃ المائدہ ایۃ 90)۔
و فی الدرالمختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام الخ (5/166)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0