گناہ و ناجائز

مسجد میں مرنے والے شخص کے متعلق جنتی ہونے کا اعلان کرنا

فتوی نمبر :
44293
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مسجد میں مرنے والے شخص کے متعلق جنتی ہونے کا اعلان کرنا

کیا کوئی شخص جو مسجد میں نماز کے بعد فوت ہو جائے، تو کیا وہ جنتی ہوتا ہے، میرے سسر کے بارے میں ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ ہمارے ابا جنتی ہے، اچھی موت آئی ہے، مگر سسر بہو کے لیے سخت دل اور ظالم تھے، بیٹوں سے ساری تنخواہ لیتے، بیٹیوں کو دیتے، ان کو ہر آسائش دیتے، نواسوں کی بھاری فیس دیتے، پاس رکھتے، بہو کام کرتی ، پکا کے کھلانا، مگر بہو پر نہ صرف کام کا دباؤ ڈالے رکھنا، بلکہ کھانے کو بھی نہیں دینا، سوائے روکھی سوکھی روٹی سبزی کے بھی، آمدنی اچھی تھی، (5) بیٹے اعلی تعلیم یافتہ ہیں، سبھی (30،40،50) ہزار دیتے ماہانہ ، ہر ماہ صرف ایک بیٹی غیر شادی شدہ تھی جس کو گھر کا حکمرانی بنارکھا تھا ، سسر نے بہو پہ جب سب بھائی آتے چھٹی پہ ایک دو دن کے لیے ، تو اسپیشل کھانا پکواتا، سسر پلاؤ، کباب، قورمہ ، نان خود پکاتی صرف اپنے اور ماں، باپ اور بہو کے لیے ، مگر بہو کو نہیں دیتے تھے ، بیشک حاملہ کیوں نہ ہو، اس میں قصور بیٹوں کا تھا، وہ نہیں کہہ سکتے تھے ماں باپ کو اگر بہو بولے تو گاڑی پلاٹ کے طعنے دیتے، جہیز کے طعنے دے کے منہ بند کر دیا جاتا، بلیک میل کیا جاتا،حالا نکہ میں بھی تعلیم یافتہ (MSC) ڈگری ہولڈر ہوں، جاب ان کو پسند نہیں تھی، مگر جہیز پسند بہت تھا، اور ضرورت کا سامان دیا میرے والد نے تو کیا ایسا سسر جس نے اتنا ظلم کیا ہو بہو پہ وہ ڈائریکٹ بے حساب جنت میں چلا گیا مسجد میں فوت ہو گے ، میں نے معاف نہیں کیا اس انسان کی وجہ سے حالت حمل میں کیسے تڑپتی تھی، کام کا بوجھ ، بھو کی بھی الٹیاں آتی، اچھا پکا کے بھی نہیں دیتے تھے ، چھپا کے کھاتے، پکاتے ، حالانکہ میاں میرے (40) ہزار دے رہے تھے، پیٹ میں بچہ پھر بھی ترس نہیں کھایا، ایسا انسان ظالم سسر ، ساس، نند تھے، تو کیا وہ بندہ جس کو یہ بھی نہیں پتہ کہ بہو میرے پاس رہ رہی، میاں دوسرے شہر میں جاب کر کے مجھے پیسے دے رہا، میں بہو کو فروٹ دودھ ضرورت کی چیزیں دوں، حاملہ ہے، آخر نسل تو ہماری ہے، ان ہی حالات میں میرا بچہ ضائع ہو گیا، (4) ماہ کا میں کبھی بھی اس آدمی کو معاف نہیں کروں گی، اس کو بیٹی ان کو اولاد عزیز رہے ، ہمیشہ بیٹی کو لاکھوں کا جہیز دیا بیٹوں کی تنخواہ میں سے ان کی بیوی کو تنگی دے دے کے ، مسجد میں فوت ہو جائے کوئی انسان نماز کے بعد تو کیا وہ جنتی ہے، کوئی شک نہیں قصور میرے میاں کا ہے، کیونکہ وہ میرا خیال رکھے ، ماں باپ کے فرمانبرداری کا یہ مطلب ہوتا ہے، کہ بیوی کی حق تلفی کرو، اس کا خیال نہ رکھو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کے سسر نے اگر سائلہ پر اپنی زندگی میں ظلم کیا ہو تو اس کا وبال اس پر ہے، اگر سائلہ معاف نہ کرے، تو اس کی سزا اس کو ملے گی، مگر ایک مسلمان کے لیے اتنا سخت دل نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اب اس کے مرنے کے بعد اس کو معاف کرنا چاہیے، تا کہ وہ اخروی مواعظہ سے سبکدوش ہو جائے، تاہم بیٹوں کا اپنے والد کو جنتی کہنا حسن خاتمہ کی بناء پر ایک حسن ظن ہے، ورنہ جنتی یا جہنمی ہونے کا فیصلہ کا حق اور علم اللہ کے پاس ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح البخاري: عن علي رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان في جنازة، فأخذ عودا ينكت في الأرض، فقال: «ما منكم من أحد إلا وقد كتب مقعده من النار، أو من الجنة» قالوا: يا رسول الله، أفلا نتكل؟ قال: " اعملوا فكل ميسر {فأما من أعطى واتقى وصدق بالحسنى} [الليل: 6] " الآية اھ (6/ 170)
وفيه ايضاً صحيح البخاري: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن العبد ليعمل، فيما يرى الناس، عمل أهل الجنة وإنه لمن أهل النار، ويعمل فيما يرى الناس، عمل أهل النار وهو من أهل الجنة، وإنما الأعمال بخواتيمها» اھ (8/ 103) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کریم اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 44293کی تصدیق کریں
0     265
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات