کیا پگڑی کی دکان لینا جائز ہے، مالک دکان کا کہنا ہے کہ ابھی میرا کیس چل رہا ہے، بعد میں اونر کرونگا ابھی نہیں۔
نوٹ: دکان کے اصل مالک نے مذکور دکان کسی کو پگڑی پر دی ہے، اب میں چاہتا ہوں کہ اس دوسرے شخص سے مذکور دکان پگڑی پر لے لوں، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟
واضح ہوکہ پگڑی کا معاملہ جو آج کل رائج ہے شرعاً جائز نہیں ہے، لہذا سائل کو دکان پگڑی پر لینے سے احتراز چاہیئے ، البتہ مروّجہ طریقہ کار کے بجائے اگر مالک آنے والے چند سالوں کی کرائے کی کچھ رقم اجرتِ معجَّلہ کے طور پر کرایہ دار سے لے لیں تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہوگا اور اس پر اجرت کے احکام لاگو ہوں گے۔
کما فی تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق: لایجوز أن يَضْرِبَ لَهَا أَجَلًا لَا يَعِيشُ إلَيْهِ مِثْلُهُ عَادَةً؛ لِأَنَّ الْغَالِبَ كَالْمُتَحَقِّقِ فِي حَقِّ الْأَحْكَامِ حَتَّى يُحْكَمَ بِمَوْتِ الْمَفْقُودِ عِنْدَ مَوْتِ أَقْرَانِهِ فَصَارَ كَالتَّأْبِيدِ مَعْنًى فَلَا يَجُوزُ لِمَا عُرِفَ أَنَّ التَّأْبِيدَ يُبْطِلُهَا الخ (5/106)۔
و فی المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی: والتأقیت شرط جوازھا والتأبید یبطلھا اھ(7/621)۔