میں نے پچھلے سال اسٹیٹ لائف انشورنس پالیسی لی تھی، اور 158860 روپے کی پہلی قسط بھی ادا کر دی، کیوں کہ انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس پر جو نفع ملے گا،وہ پراپرٹی کی خرید و فروخت اور کرایہ پر مشتمل ہو گا، سودی کاروبار میں انہیں نہیں لگایا جائے گا، جناب اس کے بعد میں نے کچھ علماء کی ویڈیوز کلپ دیکھیں، جس میں پتہ چلا کہ اسٹیٹ لائف انشورنس حرام ہے ، اب اسٹیٹ لائف والے دوسری قسط کا مطالبہ کر رہے ہیں ، جناب مجھے بتائیں اگر یہ حرام ہے ،تو میں یہ پالیسی چھوڑ دوں
اور مزید نقصان اور عذاب سے بچ جاؤں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔
اسٹیٹ لائف انشورنس کی پالیسی جوا اور قمار کی ایک قسم ہونے کے ساتھ سودی معاملہ بھی ہے، جو کہ شرعاً جائز نہیں، اس لئے مذکور کمپنی کی کوئی پالیسی لینا خواہ وہ زندگی سے متعلق ہو یا دیگر اموال سے , شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر کسی پالیسی کو قانو ناًلازم قرار دیا جائے اور اسے اختیار کیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو ایسی پالیسی کو اپنانے کی شرعاً بھی گنجائش ہو گی۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0