محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
میں ابھی پانچ مہینے ہوئے ہیں کہ امریکا سے واپس آگیا ہوں، اور میری کوشش آسٹریلیا یا انگلینڈ جانے کی ہے۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ سمندر پار سفر میرے لئے بہتر ہوگا کہ نہیں ؟ اگر بہتر ہوگا تو کون سا ملک؟ براہ کرم راہ نمائی فرمائیں۔
اس سلسلہ میں سائل کو چاہیے کہ وہ سفر سے پہلے استخارہ کر لے اور اس کے بعد کسی بھی ایک جانب کا فیصلہ کرلے اور استخارہ کا طریقہ یہ ہے کہ سونے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھے اس کے بعد خوب دل لگا کر یہ دعا پڑھے ۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ [ص:90]، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ - يُسَمِّيهِ - بِعَيْنِهِ الَّذِي يُرِيدُ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي، وَمَعَادِي، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، وَبَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي مِثْلَ الْأَوَّلِ، فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاقْدِرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ " (سنن أبي داود (2/ 89)جب هذا الامر پر پہنچے (جس لفظ پر لیکر بنی ہے ) تو اس کے پڑھتے وقت اپنے کام کا دل میں خیال کر لیں جس کے لیے استخارہ کرنا چاہتا ہے اس کے بعد پاک صاف بستر پر قبلہ کی طرف منہ کرکے باوضو سوجائیں جب سو کر اٹھیں تو جو بات دل میں مضبوطی سے آوے وہی بہتر ہے اسی کو کرنا چاہیئے ۔
نیک عمل مکمل کرنے سے قبل اگر نیت خالص کر لی جائے تو وہ عمل ریاکاری میں شمار ہوگا یا نہیں؟
یونیکوڈ استخارہ 0کتنا علم حاصل کرنا فرض ہے؟ نیز فحش باتوں اور ناجائز امور کا گناہ کب تک ملتا رہے گا؟
یونیکوڈ استخارہ 0برکت کے لیے طلباء اور علماء کو گھر لے جا کر دعا اور قرآن بخشوانا اور کھانا کھلانا
یونیکوڈ استخارہ 0غیر مسلموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا تو حرام البتہ اتفاقا ساتھ کھانا بہ امرِ مجبوری جائز ہے
یونیکوڈ استخارہ 0