گناہ و ناجائز

جسم کی بوریت کو دور کرنے کیلئے فلمیں دیکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
46201
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

جسم کی بوریت کو دور کرنے کیلئے فلمیں دیکھنے کا حکم

السلام علیکم !
میں ایک 22 سال کا لڑکا ہوں، اور میں ابھی اسکول پڑھ رہا ہوں، میں ایک لڑائی لڑ رہا ہوں، جب سے میں نویں جماعت میں تھا، تو مجھے فحش فلمیں دیکھنے کی لت پڑ گئی تھی، پھر میں نے محسوس کیا کہ میرے ٹر گر پوائنٹس مندرجہ ذیل ہیں، تناؤ، اور بوریت ، لہذا الحمد للہ میں نے اپنے تمام سوشل میڈیا کو حذف کر دیا، میرے پاس اب اسمارٹ فون بھی نہیں ہے ، میں کشیدگی سے نمٹنے ، اور نئے میکانزم تیار کرنے میں مدد کے لئے کتابیں پڑھ رہا ہوں ، تاہم وبائی بیماری کی وجہ سے میں گھر کے اندررہ رہا ہوں، اور اس کی وجہ سے بوریت پیدا ہو گئی ہے ، میرے پاس اس بوریت کو دور کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، میں جو بھی حل ڈھونڈ تا ہوں ، وہ زیادہ دیر تک نہیں چلتا، حال ہی میں میں نے اس کے حرام پہلو، یعنی موسیقی، وقت کا ضیاع وغیرہ کی وجہ سے فلمیں دیکھنا چھوڑا ہے، لیکن کیا یہ جائز ہے کہ میں اپنی بوریت دور کرنے کے لئے ، تفریح کی ایک شکل کے طور پر فلمیں دیکھوں؟ کیونکہ اس سے مجھے فحش دیکھنے سے خود کو روکنے میں مدد ملے گی، تو کیا یہ دو برائیوں میں سے کم سمجھا جائے گا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ فلمیں دیکھنا خواہ بوریت ختم کرنے کے لئے بطور تفریح کے ہی کیوں نہ ہو، بہر صورت مفاسدِ شرعیہ پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً نا جائز اور حرام ہے، جس سے احتراز ہر مسلمان پر لازم ہے، لہذا سائل کے لئے بوریت دور کرنے کو بنیاد بنا کر فلمیں دیکھنا قطعاً جائز نہیں، بلکہ اس سے پکی سچی توبہ کر کے آئندہ کے لئے بچنے کا عزم مصمّم کرے، جبکہ فارغ اوقات میں قرآن کریم تلاوت، بزرگان دین کی سوانح کا مطالعہ مفید رہےگا، ورنہ بصورتِ دیگر کوئی جسمانی ورزش یا کوئی جائز کھیل بھی کھیلا جا سکتا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الأشباه والنظائر – حنفي: القاعدة الخامسة : الضرر يزال أصلها : قوله عليه الصلاة و السلام : [ لا ضرر ولا ضرار ] اھ (ص: 105)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 46201کی تصدیق کریں
3     702
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات