گناہ و ناجائز

ایڈوانس بیلنس لینے کا شرعاً کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
47019
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ایڈوانس بیلنس لینے کا شرعاً کیا حکم ہے؟

ایڈوانس بیلنس لینے کا شرعاً کیا حکم ہے؟ جبکہ بعض علماءِ کرام اس ادھار بیلنس کو ناجائز کہتے ہیں، اس لئے کہ کمپنی جو ادھار دیتی ہے ،درحقیقت یہ رقم نہیں ہوتی، بلکہ کمپنی کی طرف سے صارف کو کمپنی کے استعمال کی مخصوص مدت کے لیے اجازت دیتی ہے ،اور اس کے لئے اجرت انہوں نے یہ طے کی ہے کہ جب صارف اپنے موبائل میں پیسے جمع کرتا ہے تو گویا وہ کمپنی کے ساتھ بایں طور عقدِ اجارہ کرتا ہے کہ صارف اپنے لئے ۱۰۰ روپے میں مثلاً ۲۵ منٹ مل جاتے ہیں، تو ان ۲۵ منٹس میں سے بھی کمپنی گزشتہ عقد کی اجرت کے طور پر کچھ منٹس کاٹ کر دیتی ہے، تو اجرت مستأجر کی جنس سے ہوئی جو کہ ناجائز ہے۔ یہ تعبیر کچھ یوں بھی کی جا سکتی ہے کہ کمپنی جو رقم بطور ادھار دیتی ہے ،وہ ڈیجیٹل رقم ہے اور کاٹتی بھی وہی ڈیجٹیل رقم کو , اور ساتھ ساتھ زیادہ رقم کاٹتی ہے، لہٰذا جنس ایک ہو گیا ،تو یہ سود ہے جو کہ ناجائز ہے۔ دوسری وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ صارف جو ادھار لیتا ہے ،اس کی اجرت کی ادائیگی کا وقت معلوم نہیں ہوتا، اس اعتبار سے بھی عقد ناجائز ہے۔ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ایزی لوڈ سودی معاملہ نہیں، بلکہ یہ موبائل کمپنی اور اس کے صارف کے مابین عقدِ اجارہ کا حکم رکھتا ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ صارف کمپنی کی سہولت استعمال کرنے کیلئے کمپنی کے مقرر کردہ وکیل کے پاس جاکر جتنی مدت کیلئے سہولت استعمال کرنی ہو، کمپنی کے وکیل کے پاس اس کے بقدر رقم جمع کروادیتا ہے، پھر وکیل ایک "SMS" کے ذریعہ کمپنی کو اطلاع دے دیتا ہے کہ فلاں صارف اتنی رقم کے بدلے کمپنی کی سہولت استعمال کرنا چاہتا ہے، اس کے بعد کمپنی اس صارف کو بذریعہ "SMS" مطلع کرتی ہے کہ اسے مطلوبہ سہولت فراہم کر دی گئی ہے، کمپنی کے اس مخصوص "SMS" کو عرف میں بیلنس کہا جاتا ہے، موبائل کمپنیوں کا یہ معمول ہے کہ وہ ’’ پری پیڈیڈ کنکشن‘‘ استعمال کرنے والے صارفین سے پہلے رقم وصول کر کے بعد میں انہیں مطلوبہ سہولت فراہم کرتی ہیں ، لیکن جب کسی کے پاس بیلنس نہ ہو اور وہ کمپنی کی سہولت استعمال کر کے ادائیگی بعد میں کرنا چاہے تو اس صورت میں بعض کمپنیاں پندرہ روپے کے بقدر سہولت بغیر پیشگی ادائیگی کے بھی دے دیتی ہیں،اور سروس کی فراہمی پر جب صارف مزید بیلنس ڈلواتا ہے تو اس وقت اس سے’’کچھ رقم ‘‘ کاٹ لیتی ہیں ، اس میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں، لہذا اس معاملے میں کمپنی کی طرف سے دی جانے والی پیشگی سہولت کو ڈیجیٹل رقم قرار دیکر سودی معاملہ قرار دینا یا اسے ادھار معاملہ شمار کر کے مدت کی جہالت کی وجہ سے اسے فاسد قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) اھ (6/ 4) ۔
وفي النتف في الفتاوى للسغدي: والاجارة لاتخلو من وَجْهَيْن اما ان تقع على وَقت مَعْلُوم اَوْ على عمل مَعْلُوم اھ (2/ 558)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمیراختر علی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 47019کی تصدیق کریں
0     1093
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات