جناب مفتی صاحب !
السلام علیکم !
کیا فرماتے ہیں علما ء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک مجلس جس میں متعدد علماء کرام بیٹھے ہیں، اور ایک صاحب جو بذاتَ خود ایک دینی ادارہ میں کام کرتے ہیں ، وہ ایک با شرع شخص پر جھوٹا الزام لگاتے ہے کہ یہ بندہ جادو کرتا ہے ، یا اسنے جادو کروایا ہے، جس پر الزام لگے وہ بندہ ایک مسجد کا امام و خطیب ہے ، اور اس کا عقیدہ ہے کہ جادو کرنے اور کروانے والا دونوں اسلام سے خارج ہیں، تو جس نے جھوٹا الزام لگایا وہ کوئی ثبوت بھی نہی دے سکا ، تو اس صورت میں جھوٹا الزام لگانے والے کی کیا حثیت ہو گی؟کیا اس کا نکاح بر قرار ہے؟ کیونکہ اس نے کفر کا فتوٰی لگا دیا۔
جزاکم اللہ فی احسن الجزاء
و السلام ۔ محمد خالد
مکان نمبر 42 نور الامین کالونی شیخوپورہ
کسی مسلمان خاص کر کسی عالم یا صاحب منصب شخص پر جھوٹا الزام لگانا ناجائز اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اس لیے مذکور الزام لگانے والے شخص کے پاس اگر کوئی بیّنہ (گواہان وغیرہ کی صورت میں ثبوت) نہ ہو ، تو اس پر لازم ہے کہ اپنے اس قبیح عمل پر بصدق دل توبہ واستغفار کرے ،اور اگر یہ معاملہ قاضی شرعی کے پاس چلا جائے تو شخص مذکور پر تعزیری سزا بھی جاری کی جا سکتی ہے، مگر اس الزام تراشی کی وجہ سے اس کا عقد نکاح ختم نہیں ہوا۔
ففی تبیین الحقائق: وحكى الهندواني أنه يعزر في زماننا في مثل قوله يا كلب يا خنزير لأنه يراد به الشتم في عرفنا وقال شمس الأئمة السرخسي الأصح عندي أنه لا يعزر وقيل إن كان المنسوب إليه من الأشراف كالفقهاء والعلوية يعزر لأنه يعد شينا في حقه وتلحقه الوحشة بذلك وإن كان من العامة لا يعزر وهذا أحسن ما قيل فيه اھ (۳/ ٦٣٦)
وفی مشكاة المصابيح: وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما رجل قال لأخيه كافر فقد باء بها أحدهما» . متفق عليه اھ (3/ 1356)
وفی مرقاة المفاتيح: (فقد باء بها) أي: رجع بإثم تلك المقالة (أحدهما) : وفي النهاية التزمها ورجع بها اهـ، وفي بعض نسخ المصابيح به أي: بالكفر، وهو أولى ذكره ابن الملك وفيه بحث، بل الأولى أن معناه رجع بإثم ذلك القول المفهوم من قال أحدهما اھ (7/ 3027) واللہ أعلم