اگر بیوی خود کماتی ہو تو شوہر کا بیوی اور بچی کو خرچہ نہ دینا کیا صحیح ہے.نیز شوہر کا بیوی کو احسان جتانا اور بلاوجہ ذہنی اذیت دینے کا کیا فتوی ہے۔
بیوی کا اگر اپنا کوئی ذریعہ آمدن ہو تب بھی اس کا نان و نفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے ، البتہ اگر بیوی کی آمدن اس کے اخراجات کیلئےکافی ہو تو ایسی صورت میں بیوی کیلیے بہتر یہ ہیکہ شوہر پر مزید بوجھ نہ ڈالے۔ جبکہ بیوی کو اگر چہ اپنے طور پرشوہر کا احسان مند ہونا چاہئے،لیکن شوہر کے لئے اس پر احسان جتانا اور بلاوجہ ذہنی اذیت دینا درست نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في القرآن المجيد :وعَلَى المَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (البقرة: 233) وفي النتف في الفتاوى :فأما نفقة الزوجات والمماليك فهي على الرِّجَالِ سَوَاء كَانَ الزوجات والمماليك اغنياء أو فقراء اھ (196/1)
وفی الھدایة: قال: " النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها " والأصل في ذلك قوله تعالى: {لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ} [الطلاق: من الآية7] .(الی قوله)إذا كانا موسرين تجب نفقة اليسار وإن كانا معسرين فنفقة الإعسار وإن كانت معسرة والزوج موسرا فنفقتها دون نفقة الموسرات وفوق نفقة المعسرات وقال الكرخي رحمه الله يعتبر حال الزوج وهو قول الشافعي رحمه الله لقوله تعالى: {لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ} [الطلاق: 7] (2/285)