میرے ساتھ کچھ ایسےمسائل ہوئے کہ مجبوراً ا پنی بیوی کو طلاق ِرجعی دینی پڑی , اس میں کچھ عادتیں تھیں , بنابتائے گھر سے باہرنکل جانا اور زبان درازی کرنا , شوہر کے حقوق پورے نہ کرنا , سمجھانے پر لڑائی کرنا , اس نے حد پار کر دی ,مجھ پر جھوٹا مقدمہ کرکے کہ میں اس سے جہیز مانگتا ہوں ,میں مجبور ہو گیا , میں نے اس کو طلاق دیدی , عدت گذرنے کے بعد اس نے دوسرا مقدمہ درج کیا نان نفقہ کا , میرا سوال ہے کہ زبر دستی عدالت کے ذریعے جو نان نفقہ لے گی وہ اس کے لئے حلال و جائز ہے حالانکہ ہمارا کوئی بچہ بھی نہیں ہے ؟ براہ مہربانی بتائیں کہ یہ نان نفقہ اس پر جائز ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں ؟ جزاک اللہ
واضح ہو کہ دورانِ عدت مطلقہ بیوی کا نان نفقہ شر عاً شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے، لیکن اگر اس دوران بیوی نان نفقہ کا مطالبہ نہ کرے اور بذریعہ عدالت و پنجائیت یا باہمی رضامندی سے ایامِ عدت کے خرچے سے متعلق کوئی مقدار طے نہ کیا گیا ہو تو ایسی صورت میں عدت گزرنے کے بعد عورت کا, شرعا ً گزشتہ ایام کے نان نفقہ کے مطالبہ کا حق نہیں رہتا، لہذا عدت گزرنے کےبعد سائل کی بیوی کیلئے گزشتہ ایام کے نان نفقہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الردالمحتار: لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.اھ(4/61)
وف الدرالمختار: (والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا)اھ(3/594)
وفی الرد المحتار: [تنبيه] أطلق النفقة فشمل نفقة العدة إذا لم تقبضها حتى انقضت العدة: ففي الفتح أن المختار عند الحلواني أنها لا تسقط، وسنذكر عن البحر أن الصحيح السقوط وأنه لا بد من إصلاح المتون هنا لإطلاقها عدم السقوط اھ(3/594)
وفی البحرالرائق: وفي الخلاصة المعتدة إذا لم تأخذ النفقة حتى انقضت عدتها سقطت نفقتها هذا إذا لم تكن مفروضة أما إذا كانت مفروضة ذكر الصدر الشهيد في الفتاوى الصغرى عن شمس الأئمة الحلواني أنه قال في المختار عندي أنها لا تسقط اهـ وذكر الخلاف في الخانية أيضا وفي الذخيرة إن كان القاضي أمرها بالاستدانة واستدانت فلها الرجوع على الزوج؛ لأنه كاستدانته بنفسه وإن لم يأمرها القاضي بالاستدانة ففيه خلاف وأشار السرخسي إلى أنها تسقط حيث علل فقال سبب استحقاق هذه النفقة العدة والمستحق بهذا السبب في حكم العلة فلا بد من قيام السبب لاستحقاق المطالبة ألا ترى الذمي إذا أسلم وعليه خراج رأسه لم يطالب بشيء منه فكذا هنا وهو الصحيح اهـ.(4/216)