مفتی صاحب امید ہےآپ خیریت سے ہونگے؟ مفتی صاحب میرا سوال ایسے دنیاوی کتابوں کے بارے میں ہے، جو ہم انٹرنیٹ سے ڈاؤنلوڈ کرتے ہیں، جبکہ کتاب کا مصنف اسے hard form میں بیچتا ہے یا سافٹ فارم میں کچھ ویب سائٹس جیسے amazon ہوگیا، معاوضہ کے ساتھ بیچتا ہے، جبکہ وہ کتابیں ہم فری میں انٹرنیٹ سے ڈاؤنلوڈ کرسکتے ہیں، تو ایسی کتابوں کے بارے میں اور اسے ڈاؤنلوڈ کرکے پڑھنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے، اور اس طرح کی کتابیں اگر پڑھی گئی ہوں، تو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جزاک اللہ خیرا
جس کتاب کی اشاعت یا ڈاؤن لوڈ کرکے فروخت کرنے اور اس سے استفادہ کرنے کی مصنفِ کتاب کی طرف سے اجازت نہ ہو تو اس کتاب کی اشاعت یا ڈاؤن لوڈ کرکے اس سے استفادہ کرنا جائز نہ ہوگا، اب تک اگر کسی نے ایسا کیا ہو تو اس پر اس کو توبہ و استغفار کے ساتھ آئندہ اس طرح کے عمل سے مکمل اجتناب چاہیئے، البتہ مصنف کی طرف سے اگر ایسی کوئی ممانعت نہ ہو تو بذریعہ انٹر نیٹ کتابیں ڈاؤن لوڈ کرکے پڑھنا بلاشبہ جائز ہوگا۔
ففی تنزیل القرآن: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29)سورۃ النساء)۔
وفی بحوث فی قضایا فقہیۃ معاصرۃ: حق الابتکار و حق الطباعۃ: ان حق الابتکار حق یحصل بحکم العرف والقانون لمن ابتکر مخترعا جدیدا او شکلا جدیدا لشیئ ـ وکذلک من صنف کتابا او الفہ فلہ حق طباعۃ ذلک الکتاب ونشرہ ولاحصول علی ارباح التجارۃ ـ وربما یبیع ھذا الحق الی غیرہ، فیستحق بذلک ماکان یستحقہ المؤلف من طباعتہ ونشرہ ـ فالسؤال: ھل یجوز بیع حق الابتکار او حق الطباعۃ والتالیف ام لایجوز؟ وقد اختلفت فی ھذہ المسألۃ آراء الفقہاء ولمعاصرین، فمنہم من جوز ذلک، ومنہم من منع ـ والمسألۃ ـ الاساسیۃ فی ھذا الصدد: ھل حق الابتکار او حق الطباعۃ حق معترف بہ شرعا؟ والجواب علی ھذا السؤال ان من سبق الی ابتکار شییء جدید سواء کان مادیا او معنویا، فلاشک انہ احق من غیرہ بانتاجہ لانتفاعہ بنفسہ، واخراجہ الی السوق من اجل اکتساب الارباح، وذلک لما روی ابو داود من اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ قا: اتیت النبیﷺ فبایعتہ فقال ((من سبق الی لم یسبقہ مسلم فھولہ)) (صـ121 )۔