گناہ و ناجائز

پراڈکٹ کو ٹاپ پر لانے کیلئے فیک آرڈر کرنا

فتوی نمبر :
49070
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پراڈکٹ کو ٹاپ پر لانے کیلئے فیک آرڈر کرنا

ای کو مرس پلیٹ فارم ہے، جہاں پے ہم کوئی سامان سیل کرتے ہیں، اب وہاں پے رینکنگ سسٹم ہے، وہاں اشیاء کو رینک کرنے کے لئے ہمیں دغا بازی اور جعلی آڈر دینے ہوتے ہیں، (fake) سے مراد یہ ہیکہ ہم خود خریدار بن جاتے ہیں، یا کسی کو پیسے دے کر کروالیتے ہیں، اس سے اس پلیٹ فارم کے حساب میں یہ ہو تا ہے کہ اس چیز پے لوگ انٹرسٹ لے رہے ہیں ،تو وہ اسے رینک کر دیتا ہے، جس سے ہماری چیز ٹاپ درجہ پے رینک ہوتی ہے , مجھے یہ بتادیں کیا ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟اور جو خریدار جعلی آرڈر کرتے ہیں, ان کو اس آرڈر کے بدلے جو پیسے ملتے ہیں وہ حلال ہے یا حرام ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ای کامرس پلیٹ فارم کے ذریعہ شرعی اصولوں کے مطابق حلال اور جائز اشیاء کی خرید و فروخت اور کاروبار کرنا شرعاً جائز اور درست ہے، تاہم فروخت کی جانے والی اشیاء کو رینکنگ میں لانے کے لئے سوال میں مذکورہ جعلی اور دھوکہ دہی پر مبنی طریقہ کار اختیار کرنا اور اس میں معاونت کرنے والوں کے لئے اجرت مقرر کرنا ہر دو امور شرعا جائز نہیں، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ﴾ (النساء: 29)۔
في مسند البزار: عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من غشنا فليس منا. (14/ 391)۔
وفي مشكاة المصابيح: وعن أبي هريرة قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الحصاة وعن بيع الغرر. رواه مسلم اھ (2/ 143)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
راجہ محمد عمیر حمایت عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 49070کی تصدیق کریں
0     582
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات