میں ریاض سعودی عرب کا رہائشی ہوں اور میں عمرہ کے لیے مکہ جانے کا ارادہ رکھتا ہوں اور میں ریاض سے جدہ ہوائی جہاز کے ذریعے جا رہا ہوں، کیا میں جدہ شہر سے اپنا احرام پہن سکتا ہوں ؟ اگر میرا جدہ میں قیام 1 دن سے زیادہ ہے تو مجھےرہائشی سمجھا جائے گا اور میں جدہ کے گھر سے احرام پہنوں گا۔
سائل کا قصد اور ارادہ اگر ریاض سے جدہ جانے اور وہاں کچھ دیر قیام کرنے کا ہو تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ ریاض سے آتے ہوئے میقات پر سے گزرنے سے قبل احرام باندھنا لازم اور ضروری نہ ہوگا ، بلکہ جب سائل جدہ سے عمرے کی نیت کر کے مکہ مکرمہ جائے گا تو جدہ سے احرام باندھنا سائل کے لیے جائز اور درست ہو گا۔
کما فی الدر المختار : (آفاقي) مسلم بالغ (يريد الحج) ولو نفلا (أو العمرة) فلو لم يرد واحدا منهما لا يجب عليه دم بمجاوزة الميقات، وإن وجب حج أو عمرة إن أراد دخول مكة أو الحرم على ما سيأتي في المتن قريبا (وجاوز وقته) ظاهر ما في النهر عن البدائعاعتبار الإرادة عند المجاوزة (ثم أحرم لزمہ الدم ) اھ (2/579)۔
و فیه أیضاً : (دخل كوفي) أي آفاقي (البستان) أي مكانا من الحل داخل الميقات (لحاجة) قصدهاولو عند المجاوزة على ما مر، ونية مدة الإقامة ليست بشرط على المذهب اھ (2/581)۔