گناہ و ناجائز

انشورنس کمپنی سے دھوکہ دہی کے ذریعے سہولت لینے کا حکم

فتوی نمبر :
49827
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

انشورنس کمپنی سے دھوکہ دہی کے ذریعے سہولت لینے کا حکم

میرے پاس ہیلتھ انشورنس ہے، جس میں سب علاج کے ساتھ میں سال میں دو (2) دفعہ اپنا چشمہ بنوا سکتاہوں، اور اس کی قیمت 900 ریال ہیں، تو میں ایک ہی چشمہ بنوا کر اس کی سلپ پر دوسرے خانے کے پیسے بڑھا کر کیش لے سکتا ہوں انشورنس کمپنی سے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سائل کے لئے ایک چشمہ بنا کر اس کی سلپ پر انشورنس کمپنی سے دو چشموں کے پیسے لینا دھو کہ دہی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، لہٰذا سائل کو اس طرح پیسے لینے سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في شرح المجلة : لا يجوز لأحد أن ياخذ مال أحد بلا سبب شرعي أي لا يحل في كل الأحوال عمدا أوخطاء أو نسياناً جداً أولعباً أن ياخذ أحد مال أحد بوجه لم يشرعه الله تعالى ولم يبحه لأن حقوق العباد محترمة لا تسقط بعذر الخطاء والنسيان والهزل وغيره وذلك كالغصب والسرقة والقمار والربا والرشوة والدعاوى الباطلة وشهادة الزور واليمين الباطلة (إلى قوله) فمن تناول مال احد بأحدى هذه الطرق فهو ظالم غاصب يجب عليه رده قائما اومثله أو قيمته ھالکاً اھ (۱/ ۶۴)۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي هذه القاعدة مأخوذة من المجامع وقد ورد في الحديث الشريف «لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا ولا جادا فإن أخذه فليرده» فإذا أخذ أحد مال الآخر بدون قصد السرقة هازلا معه أو مختبرا مبلغ غضبه فيكون قد ارتكب الفعل المحرم شرعا اھ (1/ 98)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
نعیم خان سید مست عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 49827کی تصدیق کریں
0     433
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات