گناہ و ناجائز

نبی ﷺ اور صحابہ کرام کی تصویر بنانا

فتوی نمبر :
51276
| تاریخ :
2020-10-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

نبی ﷺ اور صحابہ کرام کی تصویر بنانا

اگر پینافلیکس پر ,, من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ ،، کی عبارت لکھ کر نیچے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی تصویریں بنائی جائیں ، توکیا یہ گستاخی اور کفر کے زمرے میں آتا ھے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی کاغذ ، کپڑے یا دیواروغیرہ پر کسی بھی جاندار کی تصویر سازی بذات خود گناہ کبیرہ اور ایک ناجائز فعل ہے ،پھر انبیاء کرام علیہم السلام کی فرضی تصاویر اور شبیہ بنانا جس میں ان کو مختلف کیفیت میں دکھلایا گیاہو ایک ناجائز عمل ہے، اگر ان تصاویر سے کسی کی بھی حرمتی مقصود نہ ہو تو اگر چہ اس سے کفرلازم نہیں آتا، لیکن یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی سخت توہین ،بے ادبی مبنی فعل ہے، اسی طرح حضرات صحابہ کرام رضوان للہ علیھم اجمعین کے تصاویر بنانا بھی شرعاممنوع ہے، جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 51276کی تصدیق کریں
0     1979
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات