گناہ و ناجائز

عام مسلمانوں کے نام کے ساتھ علیہ السلام یا رضی اللہ عنہ لکھنا

فتوی نمبر :
51463
| تاریخ :
2022-08-15
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عام مسلمانوں کے نام کے ساتھ علیہ السلام یا رضی اللہ عنہ لکھنا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
میرا یہ سوال ہے کہ کیا عام مسلمانوں کے نام کے ساتھ "علیہ السلام" یا " رضی اللہ تعالیٰ عنہ" کہ سکتے ہیں کہ نہیں؟ اگر نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے؟؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکورر دونوں جملے محض دعائیہ ہیں، اور ان میں سے پہلا جملہ انبیاء کرام کے ساتھ اور دوسرا جملہ حضرات صحابہ کرام کے ساتھ عرفا خاص ہے، خاص طورپر پہلے جملہ کا انبیاء کے علاوہ کسی اور کے لیے استعمال روافض کی علامات میں سے ہونے کے ساتھ ساتھ عوام الناس کو دھوکہ دہی دینے کے مترادف اور جھوٹ کو بھی شامل ہے، اس لیے علیہ السلام کا لفظ غیر نبی کے لیے استعمال کرنے سے اجتناب ضروری ہے۔
جبکہ رضی اللہ عنہ کا لفظ اگرچہ اپنے دعایہ مفہوم کے اعتبارسے غیر صحابی کے لیے بھی استعمال ہوسکتاہے، لیکن پھر بھی صرف حضرات صحابہ کرام کے اسماء کی حد تک اس کا استعمال محدود رکھنا زیادہ بہترہے، تاکہ کوئی شبہ باقی نہ رہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الشامیۃ:(6/753)
"و أما السلام فنقل اللقاني في شرح جوهرة التوحيد عن الإمام الجويني أنه في معنى الصلاة، فلايستعمل في الغائب و لايفرد به غير الأنبياء فلايقال: علي -عليه السلام- وسواء في هذا الأحياء و الأموات إلا في الحاضر، فيقال السلام أو سلام عليك أو عليكم وهذا مجمع عليه اهـ.

وشرح فقہ الاکبر:(167)
"أن قوله: "علي علیه السلام" من شعار أھل البدعة، فلایستحسن في مقام المرام."

أقول: و من الحاضر السلام علينا و على عباد الله الصالحين، و الظاهر أن العلة في منع السلام ما قاله النووي في علة منع الصلاة أن ذلك شعار أهل البدع، و لأن ذلك مخصوص في لسان السلف بالأنبياء عليهم الصلاة والسلام، كما أن قولنا عز وجل مخصوص بالله تعالى، فلايقال: محمد عز وجل، و إن كان عزيزًا جليلًا، ثم قال اللقاني: وقال القاضي عياض الذي ذهب إليه المحققون، وأميل إليه ما قاله مالك وسفيان، واختاره غير واحد من الفقهاء والمتكلمين أنه يجب تخصيص النبي صلى الله عليه وسلم و سائر الأنبياء بالصلاة والتسليم كما يختص الله سبحانه عند ذكره بالتقديس والتنزيه، و يذكر من سواهم بالغفران والرضا كما قال الله تعالى - رضي الله عنهم ورضوا عنه يقولون ربنا اغفر لنا ولإخواننا الذين سبقونا بالإيمان - وأيضا فهو أمر لم يكن معروفا في الصدر الأول، وإنما أحدثه الرافضة في بعض الأئمة والتشبه بأهل البدع منهي عنه فتجب مخالفتهم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 51463کی تصدیق کریں
0     1165
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات