میرا سوال یہ ہے کہ ای ایف یو لائف انشورنس لمیٹڈ والے جوپالیسی دے رہے ہیں، کیا شریعت کے لحاظ سے درست ہے؟وہ کہتے ہیں ہم نے فتویٰ لیا ہے اس میں سود نہیں ہے، یہ یونٹ خریدتے ہیں، پھر دس سال میں اس پر ایک بھاری رقم دیتے ہیں ۔ جواب جلد دیجیئے گا ۔
انشورنس جس کا معنی لغۃ یقین دھانی ہے، کیونکہ کمپنی انشورنس کرنے والے کو مستقبل میں بعض خطرات سے حفاظت اور بعض نقصانات کی تلافی کی یقین دہانی کر دیتی ہے، اس لئے اسے انشورنس کمپنی کہتے ہیں۔
اس کے بعد واضح ہو کہ انشورنس ایک معاملہ ہے انشورنس جو انشورنس کے طالب اور انشورنس کمپنی کے درمیان ہوتا ہے، جس میں انشورنس کمپنی اپنے کسٹمرسے ایک معینہ رقم بالاقساط وصول کرتی ہے اور ایک معینہ مدت کے بعد وہ رقم اسے یا اس کے پس ماندگان کو حسب شرائط واپس کر دیتی ہے اور ساتھ ہی مقررہ شرح فیصد کے حساب سے اصل رقم کیساتھ مزید رقم بطور سود دیتی ہے، انشورنس کمپنی کا مقصد اس رقم کے جمع کرنے سے یہ ہوتا ہے کہ اُسے وہ دوسرے لوگوں کو بطور قرض دے کر ان سے اعلیٰ شرح پر سود حاصل کرے یا کسی تجارت میں لگا کر یا کسی جائیداد کو خرید کر اس سے منافع حاصل کرے، لہٰذا اس حقیقت کے لحاظ سے انشورنس کا معاملہ ایک سودی کاربار کا معاملہ ہوتا ہے، جو بینک کے کاروبار کے مثل ہے دونوں میں فرق صرف شکل کا ہے حقیقت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں، حقیقت میں اگر فرق ہے تو صرف اتنا ہے کہ اس میں ربا کے ساتھ غرر بھی پایا جاتا ہے وہ اس پر کہ ایک طرف سے تو ادائیگی متعین ہے دوسری طرف سے ادائیگی موہوم ہے جو قسطیں ادا کی گئی ہیں وہ رقم بھی مل سکتی ہے اور ا س سے زیادہ بھی مل سکتی ہے، اسی کو قمار کہتے ہیں، اس لیے مروجہ انشورنس پالیسیاں چاہے ان کا تعلق زندگی سے ہو یا دیگر اشیاء سے ہو، ان میں شرکت سے منع کیا جاتا ہے، لہذا اس سے احتراز واجب ہے۔ البتہ تھرڈ پارٹی انشورنس جو گاڑی وغیرہ کوروڈ پر لانے کے لیے قانونا لازم ہوتی ہے۔ اس کے بغیر گاڑی روڈ پر نہیں لائی جا سکتی قانونی مجبوری کی بناء پر اس کی گنجائش ہے۔ والله اعلم بالصواب!
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0