میرا گھر تیسری منزل پر ہے , میرے ساتھ والے چار مکانات کی چھت میرے برابر ہے , اتفاق سے کسی بھی مکان کا زینہ آخری چھت تک نہیں ہے ، صرف میں لکڑی کی سیڑھی سے چھت کی دیکھ بھال کے لئے چڑھتا ہوں , میرے ساتھ والے ایک مکان کی چھت ڈلے ہوئے 15 ماہ , دوسرے کی 28 ماہ ہوچکے ہیں , دونوں مکانات کے الگ الگ ٹھیکیدار چھتوں پر کچھ تعمیرات میں استعمال ہونے والی اشیاء جیسے پھٹے پائپ کے کچھ کے ٹکڑے , پردے کے لئے لگائی جانے والی ہری جالی وغیرہ چھوڑ گئے ہیں , اس سامان کی مارکیٹ ویلیو دو ہزار سے بھی کم ہوگی اور اتارنے میں شاید دقت یا نئے مالکان آجانے کی وجہ سے وہ اسے چھوڑ گئے ہیں۔
مجھے اپنی چھت کی مرمت کے لئے اس سامان کی ضرورت ہے, جس کے بعد وہ سامان اس صورت میں نہیں رہے گا یعنی کاٹ کر چھوٹا کرنا پڑے گا اور کچھ مستقل لگ بھی جائے گا۔
ایک مکان میں اسکول ہے اور انتظامیہ چھت پر کسی سامان سے لاعلم ہے , دوسرا تعمیر کے فوری بعد بک گیا اور نئے مالکان کو اس سامان سے سروکار نہیں۔
میرے لئے اس کے استعمال کی کیا جائز صورت ہوسکتی ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے پڑوسی کے گھر پر موجود سامان کی مالیت خواہ جتنی بھی ہو ، او رمالک مکان کے علم میں ہو یا نہ ہو ، بہرصورت مالکِ مکان ہی ان اشیاء کا مالک ہے ، اور ان کی اجازت کے بغیران اشیاء کا استعمال شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے ، تاہم اگرسائل نے مالکِ مکان کے علم میں لائے بغیر , یہ اشیاء استعمال کرلی ہوں , تو اب سائل پر لازم ہے کہ اصل مالکان کو پوری صورتِ حال بتائے اس کے بعد وہ جو بھی مناسب سمجھیں فیصلہ کرلیں۔