گناہ و ناجائز

غلط کام کرنے کا مشورہ دینا

فتوی نمبر :
58008
| تاریخ :
2022-08-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غلط کام کرنے کا مشورہ دینا

اگر کوئی آدمی برے کام کا منصوبہ بنا رہا ہو اور وہ کسی سے اس کام کے متعلق مشورہ کرے کہ میں یہ کام کروں یا نہیں ؟ تو جس سے مشورہ لیا جا رہا ہے وہ کہے کہ نیکی اور پوچھ پوچھ تو اس کا شرعا کیا حکم ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مشورہ ایک امانت ہے اور مشورہ دینے والا امانت دار ہوتاہے،چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر کسی سے اس کے مسلمان بھائی نے مشورہ مانگا، اور اس نے بغیر سوچے سمجھے مشورہ دے دیا تو اس نے اس مسلمان بھائی کے ساتھ خیانت کی۔ (الادب المفرد: رقم 254)
لہذا کسی غلط کام کرنے کی تائید کرنے اور اسے کرگزرنے کا مشورہ دینے والا شخص بلاشبہ خیانت کا مرتکب اور اس گناہ میں برابر کا شریک ہوگا۔ جس پر توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیے اس طرح کی امور سے مکمل اجتناب لازم ہے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 58008کی تصدیق کریں
1     1759
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات