گناہ و ناجائز

قربانی کے لئے بھیجی گئی رقم سے بچ جانے والے پیسوں کو اپنے استعمال میں لانا

فتوی نمبر :
5806
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

قربانی کے لئے بھیجی گئی رقم سے بچ جانے والے پیسوں کو اپنے استعمال میں لانا

میری نانی جو کہ گزشتہ سال وفات پاگئی ہے، ان کا ایک بیٹا USA امریکہ میں رہتا ہے (یعنی میرا ماموں) میری والدہ نے ان کو کہا کہ ماں تو فوت ہو گئی ہے، وہ ہر سال قربانی کرتی تھی، تم کچھ پیسے پاکستان بھیجو ،اور چھوٹے بھائی کو کہو کہ ماں کے نام کی قربانی کر دینا، انہوں نے دو سو ڈالر بھیج دیئے تھے، جو کہ پاکستانی چودہ ہزار بنے ، تب مجھے ڈالر کا کنفرم نہیں پتہ تھا، میں نے چودہ ہزار ماموں کو دے دئیے ، اب میرے پاس ہزار بچ گیے، مطلب ڈالر کا ریٹ کنفرم کیا تو ہزار اور میرے پاس بچ گیا ہے،آپ مجھے یہ بتا دینا کہ یہ ہزار میں کہا لگاؤں یا کس کو دوں؟ کسی بیوہ عورت کو دیدوں یا پھر کیا کیا جائے ؟ مہر بانی کر کے جلد سے جلد جواب دیجیے۔ اللہ حافظ !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بقیہ مذکور رقم مبلغ ایک ہزار روپے کو وہ اپنی ضرورت میں بھی خرچ کر سکتے ہیں، اور اگر اپنی نانی مرحومہ کے ایصال ثواب کے لئے یہ رقم کسی مستحق کو دیدی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

و في فتح القدير : تحت (قوله اذنا له دلالة). الاذن دلالة كالاذن صريحاً كما فى شرب ماء السقاية اھ (۸/ ۴۳۸) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شفیع اللہ ریحان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 5806کی تصدیق کریں
0     371
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات