اسلام علیکم مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ ایک بندہ جو کہ شادی شدہ ہے اور اس کی بیوی کو اپنے شوہر پہ ہر وقت شک رہتا تھا کہ یہ کسی سے باتیں کرتا ہے کسی سے ملتا ہے تو اس ںے اپنے شوہر کے موبائل میں کال ریکارڈنگ لگائی تو پتہ چلا کہ وہ اپنی چھوٹی ماں یعنی کہ سوتیلی ماں سے باتیں کرتا ہے اور اس سے ناجائز تعلقات رکھے ہوئے ہیں تو اس عورت نے شوہر کے بہن بھائیوں سے معلومات لی تو پتہ چلا کہ یہ تو کب سے ان کا تعلق ہے اور ہم نے ان کی حرکتیں اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں کئی بار ،تو مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ کیا اس بندہ کا اپنی بیوی سے نکاح موجود ہے ؟
دوسرا سوال یہ کہ کیا اس کے ناجائز تعلقات کی وجہ سے اس کے باپ کا نکاح اپنی چھوٹی بیوی سے برقرار ہے یا نہیں ؟
تیسرا سوال یہ کہ جو کال ریکارڈنگ ہے جس میں بے ہودہ باتیں کی جارہی کیا اس بندہ کی بیوی اپنے سسر کو سنا سکتی ہے یا گناہ گار ہو گی
مفتی صاحب میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ ہمیں جواب تھوڑا جلدی دیا جائے عین نوازش ہوگی شکریہ
(1)سوال میں مذکور شخص اگر واقعۃ اس فعل کا مرتکب ہے تو اس پر لازم ہےکہ بصدق دل توبہ و استغفار کے ساتھ آئندہ کیلئے اس عمل سے مکمل اجتناب کرے،تاہم مذکور عمل سے اس کا نکاح ختم نہیں ہوا۔
(2)مذکور شخص نے اپنے والد کی منکوحہ کو بغیر حائل شہوت کے ساتھ چھوا ہو تو وہ اپنے شوہر یعنی مذکور شخص کے والد پر ہمیشہ کیلئے حرام ہوچکی ہے،لہذا مذکورسسر پر لازم ہے کہ مذکور بیوی کو الفاظ متارکہ(میں نے چھوڑ دیا وغیرہ)کہہ کر علیحدہ کردے۔
(3)ریکارڈنگ سسر کو سنانے میں کوئی حرج نہیں،تاکہ حقیقت سمجھ کر حرام سے بچنے میں آسانی ہو۔