جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے گاؤں میں مدرسہ ہے،مدرسہ کے مکان میں استاد صاحب فیملی کے ساتھ ہی 20 سال سے رہ رہے ہیں،لیکن اب تقریباً 2سال سے مدرسہ میں نہ پڑھا رہے ہیں،نہ مدرسہ کی کوئی مدد،بلکہ مدرسہ سے کوئی تعلق ہی نہیں،لیکن مدرسہ کے مکان میں رہتے ہیں،لیکن انہوں نے گاؤں میں اپنے لئے گھر بنوایا ہے،خوب بہترین اچھا سا ،لیکن وہ مدرسہ کے مکان میں ابھی بھی رہتے ہیں،کیا اب مدرسہ کے مکان میں رہنا جائز ہے یا ناجائز؟انہوں نے 4ماہ پہلے کہا تھا کہ حج کرنے کے بعد اپنے مکان میں چلے جائیں گے،لیکن اب بول رہے ہیں کہ 3 سال بعد،تو مدرسہ والوں نے کہا کہ آپ مکان کا کرایہ تو دو تو کوئی جواب نہیں،مفتی صاحب شریعت کے احکام کے مطابق مدرسہ کیا کرسکتا ہے؟ہمیں آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔فقط والسلام۔ابن آدم
مذکور استاذ کا اگر اب مدرسہ سے کوئی تعلق ,استاذ ہونے یا ناظم وغیرہ ہونے کا نہ رہا ہو تو اس کے لئے مدرسہ کے وقف مکان میں بغیر استحقاق اور بغیر کرایہ کے رہنا شرعاً درست نہیں،ان پر لازم ہے کہ فوراً مدرسے کا مکان خالی کرکے اپنی ذاتی رہائش اختیار کریں اور اب تک جتنا عرصہ بلامعاوضہ وقف مدرسہ کی جگہ میں رہے ہیں، اس کے کرایہ کا بھی حساب کرکے مدرسۂ انتظامیہ کے حوالے کریں۔
کمافی الدرالمختار: (وعندهما هو حبسها على) حكم (ملك الله تعالى وصرف منفعتها على من أحب) ولو غنيا فيلزم، فلا يجوز له إبطاله ولا يورث عنه وعليه الفتوى ابن الكمال وابن الشحنة اھ(4/338)۔
وفیه ایضاً: (ويبدأ من غلته بعمارته) (الیٰ قوله) ثم ما هو أقرب لعمارته كإمام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم (وإن لم يشترط الوقف) لثبوته اقتضاء الخ
وفی الشامیة: (قوله: لثبوته اقتضاء) لأن قصد الواقف صرف الغلة مؤبدا ولا تبقی دائمة إلا بالعمارة فيثبت شرط العمارة اقتضاء بحر ومثلها ما هو قريب منها كما قررناه آنفا اھ(4/368)۔
وفی البحر الرائق: واذا علم حرمة ایجار الوقف باقل من اجر المثل علم حرمة اعارته بالاولیٰ ویجب اجر المثل اھ(5/399)۔